اگر کسی نے منتخب وزیراعظم عمران خان کو غیر آئینی طریقہ سے ہٹانے کی کوشش کی ہوتی تو یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا امتحان ہوتا کہ وہ آئین کی سربلندی کے لیے کھڑی ہوتی یا نہیں۔ عدالت کے ہر فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے اور یہ جج کا فرض ہے کہ وہ اس کی پاسداری کروائے۔
سپریم کورٹ کے ججز نے آئین کو از سر نو تحریر کرتے ہوئے تحریک انصاف کو وہ کچھ عطا کیا جو مانگا بھی نہیں گیا تھا۔ قوم کے مجرم کو لانے کے لیے آئین کو ازسر نو تحریر کیا جارہا ہے۔ ججز کو ضمیر کے مطابق نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور جہاں ضمیر کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں وہاں آئین و قانون کا قتل ہوتا ہے۔
عمران خان کی جیل سے فوری رہائی ہوتی نظر نہیں آ رہی، مسلم لیگ ن کی موجودہ اتحادی حکومت قائم رہے گی۔ نئے آئی ایم ایف فنڈز کی تقسیم اور بہتر ہوتی معیشت چھوٹی جماعتوں کو حکومتی اتحاد کا حصہ رہنے کی ترغیب دے گی۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ
ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، تحریکِ انصاف پر آرٹیکل 6 ضرور لگنا چاہیے، پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کریں گے، نو مئی پاکستان کے وجود پر حملہ تھا، امریکا غزہ سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کرے۔
حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی جبکہ عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ چلایا جائے گا۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.
سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
Pakistan has moved to shut down the impression of informal peace talks with the Afghan Taliban, insisting that there will be no dialogue without concrete and verifiable action against cross-border militancy.