ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اِس بات کی منظوری دی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل سٹرائیک نہیں ہو گا جب تک کہ اُن ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ اُس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تہران “غیر مشروط ہتھیار نہ ڈال دے”، اور اس کے بعد ہی واشنگٹن کے نزدیک قابلِ قبول قیادت کے ساتھ ایران کو دوبارہ مضبوط بنانے کی بات ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اس کے لیے اپنا نیا نعرہ بھی پیش کیا ہے: “میک ایران گریٹ اگین”۔
Donald Trump has hardened his stance on Iran by declaring that no agreement is possible without “unconditional surrender”, while also saying the United States and its allies would help rebuild the country only after the emergence of what he called “great and acceptable” new leadership.
بھارت اپنے دیرینہ اتحادی ایران کو فراموش کر کے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ ماضی میں کشمیر سے متعلق ایرانی حمایت کے باوجود مودی حکومت کی تہران پر اسرائیلی حملوں اور خامنہ ای ہلاکت پر خاموشی بھارتی میراث سے دستبرداری ہے۔
Iran’s chief of staff Abdolrahim Mousavi was killed in strikes on Tehran, claims Israel’s military. The IDF also says it targeted additional senior security figures and commanders in the capital.
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق اس فیصلے سے ماہانہ تقریباً 9 ارب روپے کی بچت ہو گی اور عام صارفین کے زیر استعمال ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ اور فضائی کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
عمران خان کو 2030 سے قبل ریلیف نہیں مل سکتا، نو مئی ریاست سے بغاوت تھی۔ جسٹس ثاقب نثار و دیگر ججز نے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم کا ڈھانچہ تباہ کیا۔ میں ایک جج پر نظریں جمائے بیٹھا ہوں، مناسب وقت پر آگے بڑھوں گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً