نوئیڈا (تھرسڈے ٹائمز) — بھارتی کانگریس راہنما سونیا گاندھی نے بھارتی اخبار ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘ میں ایران اسرائیل جنگ اور خامنہ ای کی ہلاکت پر بھارتی خاموشی کے حوالہ سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ماضی میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کے حوالہ سے بھارت کے خلاف قرارداد روکنے میں اہم کردار ادا کرنے والے اور پاکستان کی سرحد کے قریب زاہدان میں بھارت کو سفارتی موجودگی کا موقع فراہم کرنے والے ایران کیلئے بھارتی حکومت کی جانب سے اصولی مؤقف کے اظہار کی بجائے خاموشی بھارتی خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ پر سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔
سونیا گاندھی لکھتی ہیں کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات تہذیبی اور سٹریٹیجک ہیں۔ جب 1994 میں اسلامی تعاون تنظیم (اور آئی سی) کے بعض حلقوں نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کے حوالہ سے بھارت کے خلاف قرارداد لانے کی کوشش کی تو تہران نے اسے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران کی اِس مداخلت نے ایک نازک معاشی دور میں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے سے روکا۔ ایران نے زاہدان میں، جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے، بھارت کو سفارتی موجودگی کا موقع بھی فراہم کیا جو گوادر بندرگاہ اور چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تناظر میں ایک تزویراتی توازن کی حیثیت رکھتا ہے۔
انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق ایران نے یکم مارچ کو تصدیق کی کہ اُس کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ٹارگٹڈ حملوں میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ جاری مذاکرات کے دوران کسی برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کا قتل عصرِ حاضر کے بین الاقوامی تعلقات میں ایک سنگین دراڑ ہے۔ تاہم نئی دہلی کی خاموشی اِس واقعہ کے صدمہ سے بھی بڑھ کر ہے۔
بھارت نے اِس قتل کی مذمت کی نہ ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی پر کوئی واضح مؤقف اختیار کیا۔ ابتداء میں امریکا و اسرائیل کے وسیع حملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے صرف ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر کیے گئے حملے کی مذمت کی مگر اِس سے پہلے پیش آنے والے واقعات کے تسلسل پر کوئی بات نہ کی۔ بعد ازاں اُنہوں نے گہری تشویش اور مکالمہ و سفارت کاری کی عمومی باتیں کیں حالانکہ یہی سفارتی عمل اُن بڑے اور بلا اشتعال حملوں سے پہلے بھی جاری تھا۔ جب کسی غیر ملکی راہنما کے ٹارگٹڈ قتل پر ہماری جانب سے خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے دفاع سے متعلق کوئی واضح آواز بلند نہ ہو اور غیر جانبداری بھی ترک کر دی جائے تو ہماری خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
سونیا گاندھی کے مطابق اِس معاملہ میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔ قتل باضابطہ اعلانِ جنگ کے بغیر اور جاری سفارتی عمل کے دوران کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 2 فور کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ کسی برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کا ٹارگٹڈ قتل اِن اصولوں پر کاری ضرب ہے۔ اگر ایسے اقدامات دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جانب سے اصولی اعتراض کے بغیر گزر جائیں تو بین الاقوامی اقدار کا زوال معمول بن جاتا ہے۔
واقعہ کا وقت اِس تشویش میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ قتل سے محض 48 گھنٹے قبل بھارتی وزیراعظم اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے جہاں اُنہوں نے بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کی واضح حمایت کا اعادہ کیا حالانکہ غزہ تنازعہ میں شہری ہلاکتوں اور خصوصاً خواتین اور بچوں کی اموات کے حوالہ سے عالمی سطح پر شدید ردِعمل پایا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی جنوب کے کئی ممالک اور بڑی طاقتیں، بشمول برکس میں بھارت کے شراکت دار روس اور چین، فاصلہ اختیار کیے ہوئے ہیں تو بھارت کی نمایاں سیاسی حمایت اخلاقی وضاحت کے بغیر ایک تشویشناک انحراف دکھائی دیتی ہے۔ اِس واقعہ کے اثرات صرف جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اِس کے اثرات براعظموں تک محسوس کیے جا رہے ہیں جبکہ بھارت کا مؤقف اِس سانحہ کی ضمنی توثیق کا تاثر دے رہا ہے۔
انڈین نیشنل کانگریس نے ایرانی سرزمین پر بمباری اور ٹارگٹڈ قتل کی غیر مبہم مذمت کرتے ہوئے اُنہیں ایک خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے جس کے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج ہو سکتے ہیں۔ ہم نے ایرانی عوام اور دنیا بھر کی شیعہ برادریوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور اِس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تنازعات سے متعلق بھارت کی خارجہ پالیسی بھارتی آئین کے آرٹیکل 51 میں بیان کردہ پُرامن حل کے اصول پر مبنی ہے۔ خودمختار مساوات، عدم مداخلت اور امن کا فروغ تاریخی طور پر بھارت کی سفارتی شناخت کا حصہ رہے ہیں۔ موجودہ خاموشی محض حکمتِ عملی نہیں بلکہ ہمارے اعلانیہ اصولوں سے انحراف محسوس ہوتی ہے۔
سونیا گاندھی لکھتی ہیں کہ بھارت کیلئے یہ معاملہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات تہذیبی بھی ہیں اور سٹریٹیجک بھی۔ جب 1994 میں اسلامی تعاون تنظیم (اور آئی سی) کے بعض حلقوں نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کے حوالہ سے بھارت کے خلاف قرارداد لانے کی کوشش کی تو تہران نے اسے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران کی اِس مداخلت نے ایک نازک معاشی دور میں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے سے روکا۔ ایران نے زاہدان میں، جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے، بھارت کو سفارتی موجودگی کا موقع بھی فراہم کیا جو گوادر بندرگاہ اور چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تناظر میں ایک تزویراتی توازن کی حیثیت رکھتا ہے۔
موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اپریل 2001 میں اُس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے تہران کے سرکاری دورے کے دوران ایران کے ساتھ تہذیبی اور معاصر تعلقات کی بھرپور توثیق کی تھی۔ تاہم اُن طویل المدتی تعلقات کا اعتراف آج کی حکومت کے بیانیہ میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات دفاع، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں وسعت اختیار کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے پاس تحمل کی اپیل کرنے کی سفارتی گنجائش موجود ہے چونکہ بھارت تہران اور تل ابیب دونوں سے تعلقات رکھتا ہے۔ مگر یہ گنجائش ساکھ پر منحصر ہے اور ساکھ اِس تاثر پر قائم ہوتی ہے کہ بھارت مصلحت نہیں بلکہ اصول کی بنیاد پر بولتا ہے۔
یہ محض اخلاقی مؤقف نہیں بلکہ سٹریٹیجک ضرورت بھی ہے۔ تقریباً ایک کروڑ بھارتی خلیجی ممالک میں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ خلیجی جنگ سے لے کر یمن، عراق اور شام تک ماضی کے بحرانوں میں اپنے شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت بھارت کیلئے کسی طاقت کے نمائندہ کے طور پر نہیں بلکہ آزاد شناخت پر قائم رہی۔
سونیا گاندھی کے مطابق بھارت کی یہ ساکھ اتفاقاً پیدا نہیں ہوئی بلکہ آزادی کے بعد بھارت کی خارجہ پالیسی عدم وابستگی کے اصول پر استوار ہوئی جو غیر فعال غیر جانبداری نہیں بلکہ تزویراتی خودمختاری کا شعوری اظہار تھا۔ یہ بڑی طاقتوں کی رقابتوں میں ضم ہونے سے انکار تھا۔ موجودہ لمحہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم اِس مؤقف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ طاقتور ریاستوں کی یکطرفہ عسکری کارروائی کے سامنے غیر تنقیدی خاموشی اِس اصول کی پسپائی معلوم ہوتی ہے اور یوں ہماری میراث سے دستبرداری کے مترادف ہے۔
یہ معاملہ صرف تاریخ کا نہیں بلکہ بھارت کے موجودہ عزائم کا بھی ہے۔ جو ملک عالمی جنوب کی نمائندگی کا خواہاں ہو اُس کیلئے خاموش رضامندی کی علامت ایک بھاری قیمت رکھتی ہے۔ اگر ایران کے معاملہ میں خودمختاری کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے تو چھوٹی طاقتیں بڑی طاقتوں کی من مانی کے سامنے غیر محفوظ رہ جاتی ہیں۔ بھارت بارہا ایک قواعد پر مبنی عالمی نظام کی وکالت کرتا رہا ہے جو کمزور کو جبر سے بچائے۔ اگر یہ مؤقف آزمائش کے لمحہ میں بیان نہ کیا جائے تو کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔ اگر آج بھارت اِس اصول کے دفاع میں ہچکچاہٹ دکھائے تو کل عالمی جنوب کے ممالک اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے بھارت پر کیوں اعتماد کریں؟
اِس اختلاف کو حل کرنے کا مناسب فورم پارلیمنٹ ہے۔ جب پارلیمنٹ کا اجلاس دوبارہ منعقد ہو تو بین الاقوامی نظام کے اِس بگاڑ پر کھلے اور صاف انداز میں بحث ہونی چاہیے۔ کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کا ٹارگٹڈ قتل، عالمی اصولوں کا زوال اور مغربی ایشیاء میں بڑھتا ہوا عدم استحکام بھارت کیلئے معمولی معاملات نہیں ہیں بلکہ بھارت کے سٹریٹیجک مفادات اور اخلاقی وابستگیوں سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت کے واضح مؤقف کا وقت آ چکا ہے جبکہ جمہوری احتساب اور سٹریٹیجک وضاحت دونوں اِس کا تقاضا کرتے ہیں۔
سونیا گاندھی نے مزید لکھا ہے کہ بھارت طویل عرصہ سے ’’وسودھیو کٹمبک‘‘ یعنی ’’دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کے تصور کا حوالہ دیتا آیا ہے۔ یہ تہذیبی قدر محض رسمی سفارت کاری کا نعرہ نہیں بلکہ انصاف، تحمل اور مکالمہ سے وابستگی کا تقاضا کرتی ہے، خواہ وہ مشکل ہی کیوں نہ ہو۔ جب قواعد پر مبنی عالمی نظام دباؤ میں ہو تو خاموشی دستبرداری بن جاتی ہے۔ بھارت نے خود کو صرف ایک علاقائی طاقت سے بڑھ کر عالمی ضمیر کی آواز کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ مقام خودمختاری، امن، عدم تشدد اور انصاف کے حق میں غیر مصلحت آمیز مؤقف سے حاصل ہوا تھا۔ آج ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم اِس اخلاقی قوت کو دوبارہ دریافت کریں اور اسے واضح اور پُرعزم انداز میں بیان کریں۔







