After failed negotiations with the Afghan Taliban in Doha and Istanbul, Pakistan warned it would take all necessary steps to protect its citizens and eliminate militant groups it blames for cross-border attacks, signalling a potential escalation in regional tensions.
پاکستان نے افغان طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور معاونین کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔
خوف اور دہشت پھیلانے والا نظام ختم کر دیا گیا ہے، اب قانون ہاتھ میں لینا ممکن نہیں رہا۔ وفاقی حکومت کی ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد ان کے اثاثوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ یہ اقدام کسی جماعت نہیں بلکہ انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ثابت کیا کہ بہادری اور عوامی خدمت ساتھ چل سکتے ہیں۔
Pakistan and Afghanistan agreed to an immediate ceasefire during Qatar and Türkiye-mediated talks in Doha, pledging to end cross-border violence and respect each other’s sovereignty, with follow-up meetings in Istanbul aimed at building a framework for lasting regional peace.
پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی باضابطہ تصدیق قطر کی وزارتِ خارجہ نے کر دی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
The US Supreme Court ruled that President Trump’s sweeping emergency tariffs were unlawful, curbing a signature trade strategy and opening the door to large-scale refund claims from businesses that paid the duties.
واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے باہر سِکھ کارکنوں کا مظاہرہ، پنجاب کی بھارتی قبضہ سے آزادی کیلئے ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کا مطالبہ کر دیا۔ مظاہرین نے ’’بورڈ آف پیس میں خالصتان تحریک کی شمولیت‘‘ کی صورت میں 1 بلین ڈالرز تعاون کی پیشکش بھی کر دی۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔