سال 2026 کا شاندار آغاز، نئے سال کے دوسرے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں 2600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج 179000 پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
سال 2025 کے آخری روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، بینچ مارک KSE ہنڈرڈ انڈیکس میں 760 پوائنٹس کا اضافہ، سٹاک ایکسچینج 1 لاکھ 75 ہزار 232 پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
The Pakistan Stock Exchange reached unprecedented heights as the KSE-100 Index surged to over 165,000 points with volumes exceeding 244 million shares and experts say policy stability and global investor interest could push the market even higher in the coming days.
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی 100 انڈیکس 165,000 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح عبور کرگیا، کاروبار کے دوران انڈیکس میں 1,441 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔