علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کے خلاف ایرانی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اِن ریاستوں کیلئے یکجہتی و حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے ایرانی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سعودی عرب نے یمن میں حالیہ پیش رفت پر متحدہ عرب امارات کی بعض سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مملکت کی قومی سلامتی ایک ریڈ لائن ہے، اور اس کو لاحق کسی بھی خطرے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ یمن کے امن، خودمختاری اور سیاسی استحکام کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
An Indian Air Force Tejas light combat jet crashed during an aerial display at Dubai Airshow 2025, forcing organisers to suspend flying and putting fresh scrutiny on India’s homegrown fighter aircraft programme.
ھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ ’’تیجس‘‘ دوبئی ائیر شو 2025 کے دوران گِر کر تباہ ہو گیا جبکہ حادثہ میں پائلٹ کے ہلاک ہونے کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ حادثہ کے باعث دوبئی ائیر شو کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔