ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں اسلام آباد نے واشنگٹن میں مؤثر تزویراتی واپسی اور قابلِ اعتماد شراکت داری کو یقینی بنایا ہے جبکہ یہ صورتحال بھارت کیلئے پریشان کن ہے، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے ذاتی رغبت کے باعث پاک امریکا تعلقات کو تقویت ملی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر رسمی سفارتی انداز کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران تک روابط برقرار رکھے ہیں جبکہ بھارت اِس بدلتے سفارتی منظر نامہ پر بےچینی محسوس کر رہا ہے۔
In a few pointed lines at the White House, President Trump accused India of “dumping” rice into US markets and demanded to know why New Delhi is “allowed” to do so without heavier tariffs. Treasury Secretary Scott Bessent denied any exemption, but the exchange has raised the prospect that Indian rice could become the next flashpoint in US–India trade
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ براہِ راست اقتصادی اور دفاعی تعاون بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت اسلام آباد نے پہلی بار یورینیم سے افزودہ نایاب معدنیات امریکہ بھیجی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ بھی قریب ہے۔ یہ معاہدے بھارت کیلئے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہیں۔
US Secretary of State Marco Rubio has signalled a broader strategic relationship with Pakistan, expanding cooperation beyond counterterrorism into trade, economic growth and regional stability.
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔