spot_img

Columns

News

آئین کے تحت ایڈہاک ججز کی تعیناتی چیف جسٹس نے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن نے کرنی ہے، وزیر قانون

آئین کے مطابق ایڈہاک ججز کی تعیناتی چیف جسٹس نے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن نے کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے توسیع میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اس تجویز سے متفق تھے۔ تحریک انصاف رہنماؤں پر آرٹیکل 6 کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جا سکتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ تسلیم کرتی ہے نواز شریف کیساتھ زیادتی کی گئی جس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا، سینئر صحافی

موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ 2014 سے میاں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور اگر اس وقت کے اقدامات نہ ہوتے تو آج پاکستان اس بحران میں نہ ہوتا۔ عدلیہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ آپ نے اپنا زور لگا لیا، اب ہماری باری ہے۔ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ جو جرم کا اعتراف نہیں کرے گا، وہ نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا سپریم کورٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی منظوری کا منصوبہ، واشنگٹن پوسٹ

  امریکی صدر جو بائیڈن امریکی سپریم کورٹ میں اہم تبدیلیوں کی منظوری کے منصوبے کو حتمی شکل دینے جارہے ہیں جن میں ججوں کی مدت ملازمت اور قابل عمل اخلاقی کوڈ کے قیام کے لیے قانون سازی سمیت صدور اور دیگر آئینی عہدیداروں کے لئے وسیع استثنیٰ کو ختم کرنا شامل ہے۔

پی ٹی آئی پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، وزیرِ دفاع خواجہ آصف

ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، تحریکِ انصاف پر آرٹیکل 6 ضرور لگنا چاہیے، پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کریں گے، نو مئی پاکستان کے وجود پر حملہ تھا، امریکا غزہ سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کرے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، وفاقی حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد وفاقی حکومت نے بھی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کر دیا۔ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 9 روپے 99 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 6 روپے 18 پیسے اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔
spot_img
Analysisکیا صدر عارف علوی انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں؟

کیا صدر عارف علوی انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں؟

چیف الیکشن کمشنر اور وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق صدر عارف علوی انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتے، گزشتہ ہفتے ایوانِ صدر میں ایک اہم ملاقات کے بعد صدر عجیب کشمکش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

spot_img

صدرِ مملکت عارف علوی پاکستان میں عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالہ سے وہ چیف الیکشن کمشنر اور وزارتِ قانون و انصاف کو خطوط بھی لکھ چکے ہیں تاہم دونوں جانب سے موصول ہونے والے جوابی خطوط نے صدرِ مملکت کو ایک کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔

صدرِ مملکت عارف علوی نے گزشتہ ماہ وفاقی حکومت کی مدت مکمل ہونے اور اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو خط لکھ کر عام انتخابات کیلئے تاریخ کے اعلان پر مشاورت کیلئے ملاقات کی دعوت دی تھی۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے صدرِ مملکت کو جوابی خط میں ملاقات سے انکار کر دیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کے بعد عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، صدر اگر آئین کے آرٹیکل 58 ٹو کے تحت اسمبلی تحلیل کریں تو وہ آرٹیکل 48 فائیو کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں تاہم اگر اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر تحلیل کی جائے تو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ہے۔

ایوانِ صدر نے چیف الیکشن کمشنر کے جوابی خط کے بعد وزارتِ قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام خط لکھ کر چیف الیکشن کمشنر کے اس مؤقف پر قانونی رائے طلب کی کہ عام انتخابات کیلئے تاریخ کے اعلان کا اختیار الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ہے۔

وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے صدرِ مملکت عارف علوی کو جوابی خط میں یہ واضح کیا گیا کہ عام انتخابات کیلئے تاریخ کے اعلان کا اختیار الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حاصل ہے، آرٹیکل 48 فائیو کے تحت صدر کو صرف اس صورت میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار مل سکتا ہے جب وہ آرٹیکل 58 ٹو کے تحت اسمبلی تحلیل کریں لیکن چونکہ اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر آرٹیکل 58 ون کے تحت تحلیل کی گئی ہے لہذا انتخابات کی تاریخ دینے کی مجاز اتھارٹی الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے۔

اس حوالہ سے ایوانِ صدر میں نگران وفاقی وزیرِ قانون و انصاف احمد عرفان اسلم کی صدرِ مملکت سے ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں عام انتخابات کے انعقاد کے متعلق کئی امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

ایک طرف یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ صدرِ مملکت عارف علوی چیف الیکشن کمشنر اور وزارتِ قانون و انصاف کے آئینی مؤقف کے برخلاف کسی بھی وقت اپنے تئیں عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں اور ان کی جماعت تحریکِ انصاف بھی ان سے یہی توقع کر رہی ہے مگر دوسری جانب کئی سیاسی راہنماؤں، قانونی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صدر عارف علوی کی جانب سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ ایسا کوئی بھی فیصلہ صدر عارف علوی کیلئے باعثِ ندامت ثابت ہو سکتا ہے۔

سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ اب عارف علوی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کی بجائے بطور صدر اپنی مدت مکمل ہونے پر ایوانِ صدر خالی کرنے کی تاریخ کا اعلان کریں اور اپنا بوریا بستر اٹھا کر تحریکِ انصاف کے سیکرٹریٹ منتقل ہو جائیں۔

مسلم لیگ نواز کے راہنما عطاء اللّٰہ تارڑ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدرِ پاکستان کے عہدہ کی مدت 9 ستمبر کو مکمل ہو چکی ہے جس کے بعد اب عارف علوی ایک عبوری صدر کی حیثیت سے ایوانِ صدر میں موجود ہیں جبکہ ایک عبوری صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر سکے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے مطابق صدر عارف علوی کے پاس انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار نہیں ہے اور اگر اس کے باوجود عارف علوی غیر آئینی طور پر تاریخ دیتے ہیں تو یہ بدنیتی ہو گی۔

ایک نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے راہنما قمر زمان کائرہ اور مسلم لیگ نواز کے راہنما خرم دستگیر خان بھی یہ مؤقف بیان کر چکے ہیں کہ صدر عارف علوی انتخابات کیلئے تاریخ کے اعلان کا اختیار نہیں رکھتے اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ملک مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

جہاں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر عارف علوی کسی بھی وقت عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کر دیں گے وہیں ایوانِ صدر کے ذرائع نے اس تاثر کو غلط بھی قرار دیا ہے، ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق صدر عارف علوی انتخابات کے متعلق ابھی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: