spot_img

تجزیہ: کوئی بھی ایوارڈ دے دو، مودی دوڑے چلے آئیں گے، دی گارڈین رپورٹ

’کوئی بھی ایوارڈ دے دو، نریندر مودی دوڑے چلے آئیں گے‘ بھارتی وزیر اعظم کے بیرونِ ملک دورے سفارتی ملاقاتوں سے زیادہ اعزازات اور ایوارڈز کے باعث زیر بحث ہیں۔ ناقدین اسے سفارت کاری سے زیادہ سیاسی تشہیر اور شخصیت پرستی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمر) — برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیرونِ ملک دورے ایک بار پھر سفارتی ملاقاتوں سے زیادہ اعزازات اور ایوارڈز کے باعث زیر بحث ہیں۔ تازہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب مودی کو سیشلز کے دورے کے دوران ایک نیا اعزاز “گارڈین آف دی بلیو ہورائزن” دیا گیا، جسے سیشلز کے اعلیٰ اعزازات میں سے ایک قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مودی جب بحرِ ہند کے جزیرہ نما ملک سیشلز پہنچے تو صدر پیٹرک ہرمینی نے انہیں ٹرافی اور سرٹیفکیٹ کے ساتھ یہ اعزاز پیش کیا۔ تاہم تقریب کے فوراً بعد اس ایوارڈ اور اس کے سرٹیفکیٹ پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے۔

دی گارڈین کے مطابق سرٹیفکیٹ میں Republic کو غلط طور پر Repubblic لکھا گیا، جبکہ Seychelles کی املا بھی Seycheeles درج تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ اعزاز مودی کی آمد سے صرف تین دن پہلے بنایا گیا تھا، اور مودی اس کے پہلے اور اب تک واحد وصول کنندہ ہیں۔

تنازع اس وقت مزید بڑھا جب سرٹیفکیٹ کو مختلف سافٹ ویئرز کے ذریعے جانچنے پر اسے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا گیا۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے معاملے کو فوراً سیاسی تنقید کا موضوع بنا لیا۔

کانگریس رہنما سپریا شریناتے نے سوشل میڈیا پر طنز کرتے ہوئے کہا: “انہیں کوئی بھی ایوارڈ دے دو، وہ دوڑے چلے آئیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایوارڈ دینے کی جلدبازی میں سیشلز کے سرکاری نام کی املا تک درست نہیں لکھی گئی۔

دوسری جانب مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کے لیے “فخر کا لمحہ” قرار دیا۔ بی جے پی کے مطابق یہ اعزاز مودی کو ان کی “گرین لیڈرشپ” کے اعتراف میں دیا گیا۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے بعد میں وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ غلط سرٹیفکیٹ دراصل ایک “ورکنگ ڈرافٹ” تھا جو غلطی سے گردش میں آ گیا، جبکہ اصل اور باقاعدہ منظور شدہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ “گارڈین آف دی بلیو ہورائزن” اعزاز حقیقی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نریندر مودی گزشتہ بارہ سالہ اقتدار کے دوران اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک متعدد اعزازات وصول کر چکے ہیں، مگر بعض اعزازات کے حالات نے ناقدین کو سوال اٹھانے کا موقع دیا ہے۔

گزشتہ ماہ اسرائیل کے دورے سے چند روز پہلے اسرائیلی پارلیمنٹ نے بھی ایک نیا اعزاز، “میڈل آف دی کنیسٹ”، متعارف کرایا، جو مودی کو ان کی آمد پر دیا گیا۔ دی گارڈین کے مطابق مودی اب تک اس اعزاز کے بھی واحد وصول کنندہ ہیں۔

اسی طرح 2019 میں مودی کو بھارت کا “فلپ کوٹلر پریزیڈنشل ایوارڈ” دیا گیا تھا۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ اعزاز ہر سال کسی عالمی رہنما کو دیا جانا تھا، تاہم رپورٹ کے مطابق اس کے بعد کسی اور رہنما کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا اور اس کی ویب سائٹ بھی غیر فعال ہو چکی ہے۔

مودی کی سوانح حیات لکھنے والے مصنف نلنجن مکھوپادھیائے نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اعزازات کا مقصد یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ دنیا بھر میں مودی کی شخصیت کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ مودی کی شخصیت پر مبنی سیاست کا حصہ ہے، جس میں بھارت کے عالمی اثر و رسوخ کو مودی کی ذاتی مقبولیت سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں مودی ایتھوپیا کے “گریٹ آنر نشان” حاصل کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہِ حکومت بھی بنے، جبکہ انہیں “آرڈر آف دی ریپبلک آف ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو” بھی دیا گیا۔

بی جے پی کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اعزازات نریندر مودی کے عالمی قد کاٹھ اور بھارت کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حیثیت کا اعتراف ہیں۔ تاہم ناقدین کے نزدیک یہ اعزازات مودی کی سفارتی کامیابی سے زیادہ ان کی شخصیت پرستی اور سیاسی تشہیر کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

خبریں

More from The Thursday Times