آئرش وزیراعظم نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا

آئرلینڈ نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا، ناورے اور سپین بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل نے فوری طور پر آئرلینڈ اور ناروے سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔

অনুবাদ চলছে… 0 / 3 মূল লেখা পড়ুন

A file photo is shown of Irish Taoiseach Simon Harris atop a backdrop of the Palestinian flag. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of Irish Taoiseach Simon Harris atop a backdrop of the Palestinian flag. — FILE/THE THURSDAY TIMES

ڈبلن (تھرسڈے ٹائمز) — آئرش وزیراعظم سائمن ہیرس نے فلسطین کو باضابطہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔

آئرش وزیراعظم سائمن ہیرس نے کہا ہے کہ آئرلینڈ فلسطین کو باضابطہ ریاست کے طور پر تسلیم کر رہا ہے، ناروے اور سپین بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر رہے ہیں جبکہ ہمیں امید ہے کہ دیگر ممالک بھی ہمارے ساتھ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے میں شامل ہوں گے۔

سائمن ہیرس کا کہنا تھا کہ میں نے کئی ہم منصب راہنماؤں سے بات کی ہے اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید کئی ممالک بھی اس اہم اقدام میں ہمارا ساتھ دیں گے، دو ریاستی حل ہی فلسطین اور اسرائیل کے عوام کیلئے امن و سلامتی کا واحد قابلِ اعتبار راستہ ہے۔

آئرش وزیرِ خارجہ مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ آئرلینڈ کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باقاعدہ اطلاق 28 مئی کو کیا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیل نے آئرلینڈ اور ناروے سے اپنے سفیروں واپس بلا لیا ہے، اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں نے آئرلینڈ اور ناروے میں تعینات اسرائیلی سفیروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایات جاری کی ہیں کیونکہ ان ممالک نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ یسرائیل کاٹس کا کہنا ہے کہ میں آئرلینڈ اور ناروے کو واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل اپنی خودمختاری اور سلامتی کو کمزور کرنے والوں کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے گا۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

The Thursday Times is published by Thursday Media International