لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی حراست میں لے لیا گیا، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی حراست میں لے کر پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Translating from the Urdu… 0 of 2 Read the original

A file photo is shown of former ISI chief Faiz Hameed. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of former ISI chief Faiz Hameed. — FILE/THE THURSDAY TIMES

راولپنڈی (تھرسڈے ٹائمز) — پاک فوج نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو تحویل میں لے لیا، سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے کر ان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کورٹ آف انکوائری شروع کی گئی جبکہ انکوائری کے نتیجہ میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت مناسب تادیبی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہو چکی ہیں جس کے بعد اب لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف انکوائری شروع کی گئی تھی، افواجِ پاکستان نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر انکوائری کمیٹی بنائی تھی۔

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.