پاکستان کی امریکی پابندیوں پر سخت تنقید، اسحاق ڈار نے امریکی اقدام جانبدارانہ اور امن و استحکام کیلئے خطرہ قرار دے دیا

پاکستان کی جانب سے نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس اور تین نجی اداروں پر امریکی پابندیوں کی شدید مذمت۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی اقدام کو جانبدارانہ اور جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔

Translating from the Urdu… 0 of 3 Read the original

A file photo is shown of incumbent deputy Prime Minister and foreign minister Ishaq Dar. — AP/FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of incumbent deputy Prime Minister and foreign minister Ishaq Dar. — AP/FILE/THE THURSDAY TIMES

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان نے نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) اور تین نجی کاروباری اداروں پر امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر (ایکس) پر حکومتی بیان جاری کرتے ہوئے امریکی اقدام کو جانبدارانہ اور جنوبی ایشیاء کے استحکام کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ اسلام آباد نے خبردار کیا ہے کہ ایسی پالیسیز خطہ میں امن و امان کو متاثر اور عالمی قوانین میں دوہرے معیار کو عیاں کرتی ہیں۔

پاکستان کا دفاعی پروگرام

پاکستان نے اپنے دفاعی پروگرام کو 24 کروڑ عوام کی امانت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خالصتاً دفاعی مقاصد کیلئے ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے مؤقف واضح کیا ہے کہ یہ پروگرام ملک کی خودمختاری کے تحفظ اور ایک غیر مستحکم خطہ میں قیامِ امن کو یقینی بنانے کیلئے اہم ہے۔ پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ یہ اعتماد سیاسی تقسیم سے بالاتر ہے اور ملکی سلامتی کیلئے قومی عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔

اسحاق ڈار کی جانب سے حکومتی مؤقف کا اظہار

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ٹویٹر (ایکس) پر بیان جاری کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کو غیر منصفانہ اور امتیازی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکی اقدامات عالمی قوانین کے اصولوں کے خلاف ہیں اور پاکستان کو نشانہ بنانے کیلئے اپنائے گئے ہیں جبکہ اس معاملہ میں دیگر ممالک کی سرگرمیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اسحاق ڈار نے ان پابندیوں کو علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے والا عمل قرار دیا ہے۔

نجی اداروں پر پابندیاں

اسلام آباد نے نجی کاروباری اداروں پر عائد پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں شکوک و شبہات پر مبنی اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس سے پہلے بھی ایسی پابندیاں بغیر کسی ثبوت کے لگائی گئیں جو عالمی نظام میں اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ہتھیاروں کے کنٹرول میں دوہرا معیار

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امریکا پر ہتھیاروں کے کنٹرول کے حوالے سے دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ ماضی میں مخصوص ممالک کو فوجی ٹیکنالوجی فراہم کی گئی جبکہ پاکستان جیسے ممالک کو نشانہ بنایا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قوانین کے امتیازی نفاذ سے ان کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔

علاقائی امن کو خطرہ

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیاں جنوبی ایشیاء میں عسکری عدم توازن کو بڑھا رہی ہیں جو خطہ کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا، جب خطہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے، استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

مذاکرات کی ضرورت

پاکستان کی جانب سے سخت تنقید کے باوجود بات چیت کیلئے آمادگی کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات کیلئے تیار ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان نے شفافیت اور منصفانہ رویوں پر زور دیتے ہوئے ایسے میکانزم کی تجویز دی ہے جو جائز تجارتی سرگرمیوں پر پابندیوں سے بچا سکے۔

وسیع پیمانے پر اثرات

پاکستان کے سخت ردعمل نے عالمی قوانین کی غیر جانبداری پر مباحثے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اسلام آباد نے امریکی پابندیوں کو علاقائی امن اور عالمی تعاون کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اصلاحات پر زور دیا ہے۔ بہرحال ان پابندیوں نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ایک اور تنازعہ پیدا کر دیا ہے جو سفارتی کوششوں میں مزید پیچیدگی لا سکتا ہے۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

The Thursday Times is published by Thursday Media International