ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاک بھارت ٹاکرا؛ کس کا پلڑا بھاری ہے اور کون بازی مارے گا؟

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاک بھارت ٹاکرا؛ اب تک کس کا پلڑا بھاری رہا، کون سے کھلاڑیوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ناقص کارکردگی دکھانے والوں میں سرِفہرست جگہ بنانے والے کون ہیں؟

کولمبو (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمز آج سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو (آر پریماداسا کرکٹ سٹیڈیم) میں آمنے سامنے ہوں گی، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کا یہ گروپ میچ دونوں ممالک کے درمیان جنگی جھڑپوں اور سیاسی تناؤ کے باعث بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی کی فضاء کے پیشِ نظر پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دوران اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیل رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے بھی سیکیورٹی تحفظات کے اظہار کے ساتھ اپنے تمام میچز بھارت سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تاہم آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی درخواست کو مسترد کر دیا جس کے بعد بنگلہ دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

پاکستان نے بنگلہ دیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دروان بھارت کے خلاف کولمبو میں شیڈول میچ کھیلنے سے انکار کیا تاہم آئی سی سی کی مداخلت اور سری لنکا و متحدہ عرب امارات کے کرکٹ بورڈز کی درخواست پر پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا جس کیلئے بنگلہ دیش کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کے میدانوں میں پاکستان اور بھارت کتنی بار آمنے سامنے آئے؟ کس نے کتنی بار فتح حاصل کی؟ کون سے کھلاڑی انفرادی کارکردگی کے باعث نمایاں رہے؟ اور کن کھلاڑیوں نے ناقص کارکردگی کی فہرست میں سب سے اوپر جگہ بنائی؟ یہ سب جاننے کیلئے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاک بھارت ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈز اور سٹیٹس پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں دونوں ممالک کے درمیان مجموعی طور پر 16 میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں بھارت کا پلڑا 12 فتوحات کے ساتھ بھاری ہے، پاکستان محض 3 بار بھارت کو شکست دینے میں کامیاب ہوا جبکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2007 کے دوران دونوں ممالک کے مابین کھیلے جانے والے سب سے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد سکور برابر رہا جس کے باعث میچ کو ٹائی قرار دیا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے مابین آخری 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کو دیکھا جائے تو یہ پانچوں میچز بھارت کی فتح پر ختم ہوئے جبکہ پاکستان کو میلبورن، نیو یارک اور دوبئی کے میدانوں میں کھیلے گئے اِن پانچویں میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2007 کے فائنل کو سب سے زیادہ یادگار پاک بھارت ٹاکرا قرار دیا جا سکتا ہے جس میں دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت نے 5 رنز سے کامیابی حاصل کر کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔

پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے مقابلوں میں انفرادی طور پر سب سے زیادہ رنز کی بات کی جائے تو بھارتی کھلاڑی ویرات کوہلی کا نام سامنے آتا ہے جنہوں نے پاکستان کے خلاف 11 اننگز میں 492 رنز بنائے جس میں 82 رنز کی شاندار اننگز سمیت 5 ففٹیز بھی شامل ہیں۔ ویراٹ کوہلی پاکستان کے خلاف 70 اعشاریہ 28 کی اوسط اور 123 اعشاریہ 92 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ 49 چوکے اور 11 چھکے لگا چکے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں انفرادی طور پر سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی محمد رضوان ہیں جنہوں نے اب تک بھارت کے خلاف 5 اننگز میں 228 رنز بنائے ہیں جس میں 79 رنز کی بہترین اننگز سمیت 2 ففٹیز بھی شامل ہیں۔ محمد رضوان بھارت کے خلاف 57 کی اوسط اور 111 اعشاریہ 76 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ 18 چوکے اور 7 چھکے لگا چکے ہیں۔

ویراٹ کوہلی کی اکتوبر 2002 میں پاکستان کے خلاف میلبورن کے میدان میں 6 چوکوں اور 4 چھکوں کے ساتھ محض 53 گیندوں پر 82 رنز کی اننگز پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے بہترین اننگز ہے۔

محمد رضوان کی اکتوبر 2021 میں بھارت کے خلاف دوبئی کے میدان میں 6 چوکوں اور 3 چھکوں کے ساتھ محض 55 گیندوں پر 79 رنز کی اننگز کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کی بھارت کے خلاف بہترین اننگز ہے۔

پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچز کے دوران چھکوں کی بات کی جائے تو بھارتی بیٹسمین ویراٹ کوہلی 11 چھکوں کے ساتھ سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پاکستان کے محمد فرحان 9 چھکوں اور بھارت کے یووراج سنگھ بھی 9 چھکوں کے ساتھ نمایاں نظر اتے ہیں۔

صفر رنز (زیرو) پر آؤٹ ہونے کی بات ہو تو بھارتی کھلاڑی گوتم گمبھیر، ہاردیک پانڈیا اور روہت شرما سرِ فہرست ہیں جو پاکستان کے خلاف کھیلتے ہوئے دو دو بار صفر رنز (زیرو) پر آؤٹ ہو چکے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی کے میدانوں میں پاک بھارت مقابلوں کے دوران انفرادی طور پر سب سے زیادہ وکٹس کی بات کی جائے بھارتی کھلاڑی ہاردیک پانڈیا کا نام سامنے آتا ہے جو پاکستان کے خلاف اب تک 9 میچز کے دوران 27 اعشاریہ 3 اوورز میں 219 رنز کے عوض 15 وکٹس حاصل کر چکے ہیں۔ پاکستان کے خلاف 14 اعشاریہ 60 رنز کی اوسط کے ساتھ وکٹ حاصل کرنے اور 7 اعشاریہ 96 کی اکانومی کے ساتھ گیند بازی کرنے والے ہاردیک پانڈیا نے ایک موقع پر محض 8 رنز کے عوض 3 پاکستانی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

پاکستان کی جانب سے پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں انفرادی طور پر سب سے زیادہ وکٹس حاصل کرنے والے کھلاڑی عُمَر گُل ہیں جنہوں نے بھارت کے خلاف 6 میچز کے دوران 21 اعشاریہ 3 اوورز میں 178 رنز کے عوض 11 وکٹس حاصل کیں۔ بھارت کے خلاف 17 اعشاریہ 18 رنز کی اوسط کے ساتھ وکٹ حاصل کرنے اور 7 اعشاریہ 26 کی اکانومی کے ساتھ گیند بازی کرنے والے عُمَر گُل نے ایک موقع پر محض 26 رنز کے عوض 4 بھارتی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں کسی ایک میچ کے دوران انفرادی طور پر بہترین گیند بازی کی بات ہو تو پاکستان کے محمد آصف سب سے نمایاں دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے پہلے پاک بھارت ٹاکرے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2007 کے اہم میچ کے دوران ڈربن (ساؤتھ افریقہ) کے میدان میں بھارت کے خلاف محض 18 رنز کے عوض 4 بھارتی بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

بھارت کی جانب سے پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں کسی ایک میچ کے دوران انفرادی طور پر بہترین گیند بازی کی بات ہو تو بھوونیشور کمار کا نام سامنے آتا ہے جنہوں نے اگست 2022 میں دوبئی کے میدان میں پاکستان کے خلاف محض 26 رنز کے عوض 3 وکٹس حاصل کیں۔

کسی ایک میچ کے دوران سب سے مہنگے بولر کی بات ہو تو حارث رؤوف کا نام سامنے آتا ہے جنہوں نے گزشتہ برس ایشیاء کپ (ٹی ٹوئنٹی) کے فائنل میچ میں بھارت کے خلاف محض 3 اعشاریہ 4 اوورز میں بغیر کسی وکٹ 50 رنز دیئے۔ حارث رؤوف کی اِس 13 اعشاریہ 63 کی اکانومی پر مشتمل ناقص بولنگ نے پاکستان کی شکست کو یقینی بنا دیا۔

آج 15 فروری کو پاکستان اور بھارت کولمبو (سری لنکا) کے میدان میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی قیادت سلمان علی آغا کر رہے ہیں جبکہ بھارتی ٹیم کی قیادت سوریا کمار یادیو کے ہاتھ میں ہے۔

کیا پاکستان بھارت کے خلاف چوتھی بار ٹی ٹوئنٹی فتح حاصل کر سکے گا یا پھر بھارت 13ویں بار پاکستان کو شکست دے کر پاکستانی کرکٹ کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں کامیاب ہو گا، یہ دیکھنے کیلئے کرکٹ کی دنیا کے کروڑوں شائقین آج پاک بھارت ٹاکرے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: