ہم اکھنڈ بھارت و گریٹر اسرائیل جیسے خطرات سے آگاہ ہیں، افواجِ پاکستان ہر دشمن کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی

افغانستان کے خلاف جنگ ہمارا انتخاب نہیں، ضرورت ہے۔ مقصد رجیم چینج نہیں، دہشتگردی کو روکنا ہے۔ پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کے پاس پراکسی وار کے علاوہ آپشن نہیں۔ افواجِ پاکستان ہر دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ افغان حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری ختم کرنا ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا آپریشن کے بعد ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سابق ائیر کموڈور خالد چشتی نے کہا ہے کہ افغانستان کے خلاف آپریشن ہمارا انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے، پاکستان کا مقصد دہشتگردی کو روکنا ہے، پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارت کے پاس پراکسی وار کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، ہم پاکستان کے خلاف بھارت اور اسرائیل کے نیکسز کو جانتے ہیں، پاکستان کبھی دوسرا ایران ثابت نہیں ہو گا، سعودی عرب کے ساتھ ہمارا گہرا مذہبی رشتہ ہے جو کسی دفاعی معاہدے کا محتاج نہیں، پاکستان کی مسلح افواج توسیع پسندانہ سوچ نہیں رکھتیں، ہم پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی کا ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کو خصوصی انٹرویو

ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی نے ’’تھرسڈے ٹائمز‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو کسی کنفیوژن میں نہیں رہنا چاہیے، پاکستان کبھی دوسرا ایران ثابت نہیں ہو گا۔ پاکستان ایک مستحکم، تسلیم شدہ اور بڑی باصلاحیت نیوکلیئر طاقت ہے۔ ہم نے خود سے سائز میں کئی گنا بڑے ہندوستان کو جو جواب دیا وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے۔ ہم اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ اسرائیل سمیت کسی کو بھی پاکستان کے حوالہ سے کسی غلط فہمی یا خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان کی باصلاحیت افواج ہر محاذ پر دشمن کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔

افغانستان کے خلاف آپریشن ہمارا انتخاب نہیں، ضرورت ہے

تھرسڈے ٹائمز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے آغاز میں ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی نے پاک افغان جنگ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے خلاف آپریشن ہمارا انتخاب نہیں بلکہ ہماری ضرورت ہے،، دہشتگردی کے نتیجہ میں ہمارا جو نقصان ہوا اور جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں وہ ہم پر قرض ہیں، ہمارا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ پاکستان نیو کلیئر طاقت کی حامل ایک ذمہ دار ریاست ہے جس کے پاس باصلاحیت مسلح افواج ہیں، اگر کوئی اپنے مفادات یا کسی اور کے سپانسرڈ مفادات کے تحت پاکستان میں دہشتگردی کرے گا تو اُسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

افغانستان میں رجیم چینج پاکستان کا مقصد نہیں

پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے خالد چشتی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کا مقصد افغانستان میں رجیم چینج نہیں ہے۔ ہم صرف پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی کو روکنا چاہتے ہیں، اپنے ملک کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں اور دشمن کو اتنا نقصان پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی سے باز آ جائے۔ افغانستان میں کسی بھی حکومتی تبدیلی کا فیصلہ افغانستان کے عوام نے کرنا ہے، افغانستان میں حکومتی تبدیلی افغانستان کے عوام کا انتخاب ہو گا جبکہ پاکستان ایسے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔

افغان حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری ختم کرنا ہو گی

اُنہوں نے کہا کہ ہمارے اہداف اور سٹریٹیجی واضح ہیں، ہم اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہے بلکہ مکمل توجہ کے ساتھ محدود پیمانے پر نپی تلی اور کامیاب کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ہم دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں، ٹریننگ سینٹرز اور کمپاونڈز کو تباہ کر رہے ہیں کیونکہ وہیں سے ہمارے خلاف دہشتگرد کارروائیاں ہوتی ہیں۔ پاکستانی آپریشنز اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دشمن کمپرومائز اور سرینڈر کرنے پر تیار نہ ہو جائے۔ افغان حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری ختم کرنا ہو گی اور یقینی بنانا ہو گا کہ اُس کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

ہم دہشتگردوں کو کوئی موقع یا وقت نہیں دیں گے

تھرسڈے ٹائمز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے خالد چشتی کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ برس اکتوبر میں افغانستان کے خلاف آپریشنز کیے لیکن پھر ترکیہ اور قطر جیسے دوست ممالک کے کہنے پر سیز فائر کر دیا۔ تاہم اب ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ہم جنگ کے میدان میں دشمن کو جتنی تکلیف پہنچائیں گے مذاکرات کے ٹیبل پر ہم اتنے ہی حاوی ہوں گے۔ جب ہم طاقت کے باوجود سیز فائر کرتے ہیں تو دہشتگردوں کو مقامات تبدیل کرنے، بھیس بدلنے، چھپنے اور حکمتِ عملی بدلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اب ہم دہشتگردوں کو کوئی موقع یا وقت نہیں دیں گے۔

پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارت کے پاس پراکسی وار کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی میں بھارتی کردار کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت کے پاس پراکسی وار کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہا، بھارت نے سرپرائز کے طور پر رات کے ساڑھے 12 بجے 85 جہاز بھیج کر دیکھ لیا، اور پھر جو نتیجہ نکلا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، جب بھارت کو احساس ہوا کہ وہ پاکستان کے خلاف فرنٹ سے نہیں لڑ سکتا تو پھر اُس نے چھپ کر وار کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

افغانستان کی طاقت ہمیشہ کرایہ پر دستیاب رہی ہے

ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی نے افغانستان کی تاریخ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی تاریخ ہے کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوشش میں رہتے تھے اور جس کا کنٹرول زیادہ ہو جاتا تھا وہ قبضہ کر لیتا تھا، روایتی طور پر افغانستان کی یہ طاقت ہمیشہ کرایہ پر دستیاب رہی ہے۔ افغانستان میں کم و بیش 22 ایسے گروپس ہیں جن میں کوئی جمہوریت، الیکشنز اور احتساب کا نظام موجود نہیں ہے۔

افغانستان کے خلاف بھارت کا دیرینہ مؤقف

تھرسڈے ٹائمز سے خصوصی گفتگو کے دوران افغان طالبان سے متعلق ماضی میں بھارت کا مؤقف یاد دلاتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بھارت نے طویل عرصہ تک افغانستان کے خلاف جو مؤقف اپنائے رکھا اُس میں وہ افغان طالبان کو دہشتگرد اور اپنا مخالف کہتا تھا۔ بھارت ماضی میں افغان طالبان پر اپنے فوجی افسر کو قتل کرنے، کابل میں بھارتی ایمبیسی پر بم دھماکہ کرنے اور ائیر انڈیا جہاز کو ہائی جیک کرنے کے الزامات لگا چکا ہے۔

مُلّا امیر خان متقی 9 برس کی عمر میں پاکستان آئے

افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے خالد چشتی نے کہا کہ مُلّا امیر خان متقی 9 برس کی عمر میں پاکستان آیا اور یہیں پرورش پاتا رہا، پھر واپس افغانستان جا کر حکومتی وزیر بنا، وہی مُلّا امیر خان متقی اب ہندوستان جا کر وہاں مذہبی مقامات کے دورے کرتے ہوئے بھارت کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کروا رہا ہے۔

افغانستان اور بھارت کی پاکستان سے دشمنی

اُنہوں نے افغانستان کی بھارت کے ساتھ قربت کو پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی سرحدوں، زبان یا مذہب میں کوئی بات بھی مشترک نہیں ہے۔ دونوں میں اگر کوئی مشترک بات ہے تو وہ پاکستان سے دشمنی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل گئے جہاں انہیں غیر معمولی پروٹوکول دیا گیا جبکہ اگلے روز پاکستان میں 52 مقامات پر افغانستان کی فوج نے حملے کر دیئے۔ افغانستان جانتا تھا کہ وہ ہمارے خلاف جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر وہ صرف ہماری سیاسی و فوجی قیادت اور انٹیلیجنس ایجنسیز کو مغربی سرحد پر الجھانا چاہتا تھا جبکہ اِسی دوران اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔

اکھنڈ بھارت اور گریٹر اسرائیل

اکھنڈ بھارت اور گریٹر اسرائیل جیسے توسیع پسند نظریات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی کا کہنا تھا کہ ایسے نظریات سے ہمیں ہمیشہ سے خطرہ رہا ہے، ہمیں بھارت اور اسرائیل کے نیکسز کے بارے میں چالیس پچاس سال پہلے سے معلوم ہے، ہم جانتے تھے کہ ہمارے دشمن کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہم ترقی کریں یا نیوکلیئر طاقت بن جائیں۔ لیکن یہ پاکستانی قوم، پاکستانی قیادت اور سائنسدانوں کی بہادری اور محنت ہے کہ آج ہم ایٹمی طاقت ہیں۔

کیا ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہو گا؟

جب خالد چشتی سے یہ سوال پوچھا گیا کہ ’’سوشل میڈیا پر پھیلنے والا یہ تاثر درست ہے کہ ایران کو شکست کی صورت میں اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہو گا‘‘ تو اُنہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ دنیا کو کسی کنفیوژن میں نہیں رہنا چاہیے، پاکستان کبھی دوسرا ایران ثابت نہیں ہو گا۔ پاکستان ایک مستحکم، تسلیم شدہ اور بڑی باصلاحیت نیوکلیئر طاقت ہے۔ ہم نے خود سے سائز میں کئی گنا بڑے ہندوستان کو جو جواب دیا وہ پوری دنیا نے دیکھا ہے۔ ہم اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ اسرائیل سمیت کسی کو پاکستان سے متعلق کسی غلط فہمی یا خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔

پاکستان دنیا کی کئی طاقتوں کو کھٹکتا ہے

تھرسڈے ٹائمز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی نے واضح طور پر کہا کہ ہمیں معلوم ہے ہم دنیا میں کئی طاقتوں کو کھٹکتے ہیں، اُنہیں ہماری طاقت قبول نہیں اور جنگی میدانوں میں اپنا لوہا منوانے والی ہماری فوج بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ مگر اِس سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے اور ہمارے ارادے مزید پختہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی قوم ایسی مضبوط ہے کہ جس نے تمام سیاسی اختلافات کے باوجود ہندوستان کے مقابلہ میں بھرپور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات کو کسی دفاعی معاہدے کی ضرورت نہیں

خلیجی و عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب پر ایرانی حملوں کے باعث علاقائی صورتحال کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے خالد چشتی کا کہنا تھا کہ ایک طرف ایران ہے جو ہمارا پڑوسی ملک ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب ہے جس کے ساتھ ہمارا بہت زیادہ گہرا مذہبی رشتہ ہے، سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 1979 میں بھی جب کچھ بدبختوں نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا تھا تو ہماری مسلح پاک افواج کے کمانڈوز نے بڑی کوششوں کے بعد وہ قبضہ ختم کروایا، سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات کو کسی دفاعی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسرائیل کی کوشش تھی کہ سارا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے

ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران دونوں ہم پر اعتماد کرتے ہیں اور دونوں کیلئے ہماری اہمیت ہے، اسی لیے ہم ایک متوازن پالیسی کے ساتھ چل رہے ہیں جبکہ وزیراعظم بھی سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں۔ یہاں پاکستان افغانستان کے ساتھ جنگ میں گیا اور وہاں اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، اسرائیل کی کوشش تھی کہ عرب ممالک ایران پر جوابی حملہ کریں اور یوں سارا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے مگر عرب ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کیا، پاکستان مثبت کردار ادا کر رہا ہے اور امید ہے کہ اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔

سعودی عرب کیلئے پاکستان کی فوجی حمایت

سعودی عرب کو ضرورت پڑنے پر پاکستانی فوج بھیجنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی نے کہا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان کی فوجی سپورٹ کی ضرورت پیش آتی ہے تو اِس کا فیصلہ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت نے کرنا ہے۔

ایران اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے

امریکا و اسرائیل کے خلاف حالیہ جنگ میں ایران کی کارکردگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کیلئے ایران پر حملہ اُن کا انتخاب ہے جبکہ ایران کیلئے یہ بقاء کی جنگ ہے، جب کسی ملک کی سالمیت داؤ پر لگ جائے تو وہ خود کو بچانے کہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ ویتنام کی جنگ 21 برس تک جاری رہی جس میں ویتنام کے 33 لاکھ افراد جبکہ امریکا کے محض 58 ہزار افراد مارے گئے تاہم اِس کے باوجود ویتنام جنگ جیت گیا کیونکہ امریکا محض کنٹرول کیلئے لڑ رہا تھا جبکہ ویتنام اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا

ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی نے امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک بڑی طاقت تھا اور آج بھی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو ناقابلِ شکست قرار دیا لیکن ہر فوج ہر جگہ ہر وقت اور ہر مقصد کیلئے نہیں ہوتی۔ اگر امریکا کا وینزویلا آپریشن کامیاب ہو گیا تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اب دنیا میں امریکا کا ہر آپریشن کامیاب ہو گا۔ امریکی صدر سے یہی غلطی ہوئی کہ اُنہوں نے وینزویلا آپریشن میں کامیابی دیکھ کر ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔

پاکستان کی مسلح افواج توسیع پسندانہ سوچ نہیں رکھتیں

افواجِ پاکستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے واضح انداز میں کہا کہ ہماری مسلح افواج کسی توسیع پسندانہ سوچ یا تھری پرونگ لڑائی کیلئے تیار نہیں کی جاتیں۔ ہمارے ملٹری مقاصد، ہماری ڈویلپمنٹ سٹریٹیجی یا ہماری اسلحہ خریداری ایسی سوچ کے تحت نہیں ہوتی۔ تاہم کسی کو ہمارے بارے میں غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ ہم تینوں سرحدوں میں سے کسی ایک پر بھی جنگ نہیں چاہتے۔ گزشتہ برس مئی میں بھارت نے ہم پر حملہ کیا، پھر ہم نے جواب میں بھارت کو جو سبق دیا وہ دنیا جانتی ہے۔ افغانستان کی جنگ بھی ہم نے شروع نہیں کی۔

ہم پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے

ائیر کموڈور (ر) خالد چشتی نے کہا کہ ہم افغانستان سے کوئی غلط مطالبہ نہیں کر رہے، ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ افغان حکومت دہشتگردی کو اپنے ملک میں روکے اور ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ ایران کیلئے بھی ہم چاہتے ہیں کہ وہاں ہماری دوستانہ حکومت رہے۔ لیکن اگر ہمیں تینوں سرحدوں پر بھی دشمن کے مقابل آنا پڑا تو ہماری افواج اتنی قابلیت رکھتی ہیں کہ ہم کسی کا بھی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں جنگ پر مجبور کیا گیا تو پھر ہم پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور آنے والی نسلوں کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: