لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان ہی واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔ پاکستان نے امریکا ایران فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل ایک فریم ورک تیار کیا ہے جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے، اِس مجوزہ منصوبہ کو ’’اسلام آباد ایکارڈ‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے جبکہ ممکنہ طور پر حتمی مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمہ کیلئے ایک ایسا مجوزہ منصوبہ موصول ہوا ہے جو پیر سے نافذ ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اِس معاملہ سے باخبر ایک ذریعہ نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ فریم ورک پاکستان نے تیار کیا ہے جس کا رات بھر ایران اور امریکا کے ساتھ تبادلہ کیا گیا ہے۔
برطانوی نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ اِس منصوبے میں دو سطح کی حکمتِ عملی شامل ہے۔ پہلے مرحلہ میں فوری جنگ بندی اور اُس کے بعد ایک جامع معاہدہ جس کے ذریعہ موجودہ جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی جبکہ اِس منصوبے کے تمام بنیادی نکات پر آج ہی اتفاق ہونا ضروری ہے۔
رائٹرز ذرائع کے مطابق ابتدائی جنگ بندی کو ایک مفاہمتی یادداشت کی صورت دی جائے گی جس کو پاکستان کے ذریعہ الیکٹرونک طور پر حتمی شکل میں ترتیب دیا جائے گا۔ موجودہ مذاکرات میں پاکستان ہی واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اِس سے ایک روز قبل ’’ایکسیوس‘‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر بات چیت کر رہے ہیں جو دو مراحل پر مشتمل ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے جو بالآخر جنگ کے مستقل خاتمہ تک لے جائے گا۔ ایکسیوس نے اپنی رپورٹ میں امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کا حوالہ دیا تھا۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ذریعہ نے بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پوری رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔
مجوزہ منصوبے کے تحت جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو گی جس کے نتیجہ میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی جبکہ 15 سے 20 روز کے اندر ایک وسیع تر سیاسی و سفارتی تصفیہ کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اِس معاہدے کو عارضی طور پر ’’اسلام آباد ایکارڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اِس میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایک علاقائی فریم ورک بھی شامل ہو گا جبکہ حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کی توقع ہے۔
تاحال امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے اِس منصوبے پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
قبل ازیں ایرانی حکام رائٹرز کو بتا چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی چاہتا ہے مگر اُس کیلئے ایران کو یہ ضمانت درکار ہے کہ امریکا اور اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ ایرانی حکام یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کو پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت مختلف ثالث ممالک کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
سورس کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے شامل ہونے کی توقع ہے جبکہ اِس کے عوض پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی رہائی جیسے اقدامات زیرِ غور ہیں۔
تاہم دو پاکستانی ذرائع نے کہا ہے کہ شہری اور عسکری سطح پر تیز تر رابطوں کے باوجود ایران نے ابھی تک اِس تجویز پر حتمی آمادگی ظاہر نہیں کی۔ ایک ذریعہ نے کہا کہ ’’ایران نے ابھی تک جواب نہیں دیا‘‘ جبکہ پاکستان، چین اور امریکا کی حمایت یافتہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر بھی اب تک کوئی واضح عزم سامنے نہیں آیا۔
برطانوی نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق چینی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا گیا۔
یہ تازہ سفارتی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاری کشیدگی نے آبنائے ہرمز سے عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی رسد کی ایک نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور وہاں کسی بھی رکاوٹ سے بین الاقوامی منڈیوں میں بےچینی پھیل سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دِنوں میں سرِعام اِس تنازع کے جلد خاتمہ پر زور دیتے رہے ہیں، اُنہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مختصر مدت میں جنگ بندی نہ ہوئی تو اِس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
اِس تصادم نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بےیقینی اور اُتار چڑھاؤ مزید بڑھا دیا ہے جبکہ تاجر اور سرمایہ کار آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ترسیل پر اثر انداز ہونے والی ہر سفارتی یا عسکری پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔







