spot_img

پاکستان کا شکریہ، امریکا و ایران اکثر معاملات میں مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

ایران وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستانی متعلقہ اداروں کی انتھک کوششوں پر شکریہ ادا کرتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار اور دورہ تہران نہایت اہم رہا۔ امریکا کے ساتھ اکثر معاملات میں مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ کے خاتمہ کیلئے جاری مذاکرات کے دوران اکثر معاملات میں مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں۔ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے خاص طور پر پاکستان کا نام لے کر اُس کی قیادت کی انتھک کوششوں پر شکریہ ادا کیا جن میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستان کے متعلقہ اداروں کا ذکر شامل تھا۔ بقائی نے مزید کہا کہ ابھی کوئی باضابطہ معاہدہ دستخط نہیں ہوا اور یہ پیش رفت کئی ہفتوں پر محیط کوششوں کا نتیجہ ہے۔

تھرسڈے ٹائمز مسلسل پاکستان کے ثالثی کردار کی کوریج کرتا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اِن کوششوں میں مرکزی شخصیت کیسے بنے، اِس حوالہ سے ہمارا تجزیہ یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

یہ کہنا درست ہے کہ زیرِ بحث معاملات کے ایک بڑے حصہ پر ہم نتیجہ تک پہنچ چکے ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ اِس کا مطلب ہے کہ معاہدے پر دستخط قریب ہیں، ایسا دعویٰ کوئی نہیں کر سکتا۔
اسماعیل بقائی، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ، 25 مئی 2026

ایران نے خاص طور پر پاکستان کا نام لیا

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے کردار کا عوامی طور پر نام لے کر اعتراف کیا جانا اہم ہے۔ ایک بیان میں بقائی نے کہا کہ ”میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ، خاص طور پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، اور دیگر متعلقہ اداروں کی انتھک کوششوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔“ یہ پہلا موقع تھا کہ ایران نے جاری امن مذاکرات کے تناظر میں پاکستانی حکام کا عوامی اور واضح طور پر نام لیا۔

بقائی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بھی خاص طور پر سراہا، پاکستان کے ثالثی کردار کو اہم قرار دیا، اور کہا کہ 22 اور 23 مئی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلہ کو جاری رکھنے میں مؤثر ثابت ہوا۔

نیو یارک ٹائمز اِس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کے رات بھر جاری رہنے والے دورہ تہران کو ”شٹل ڈپلومیسی میں تیزی“ قرار دے چکا ہے، جس کے مطابق عاصم منیر نے ”ثالثی کوششوں میں مرکزی کردار“ ادا کیا ہے۔ ایران کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کا عوامی اعتراف اور شہباز شریف اور اسحاق ڈار کا ذکر 8 اپریل 2026 کی جنگ بندی کے بعد پاکستان کے ثالثی کردار کی سب سے جامع ایرانی توثیق ہے۔

بقائی نے پاکستان کے اہم ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ 22 اور 23 مئی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلہ کو جاری رکھنا تھا۔ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایران ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے مرحلہ میں ہے جبکہ بات چیت جنگ کے خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی روکنے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر مرکوز ہے۔

مذاکرات کہاں تک پہنچے ہیں؟

روئٹرز کے مطابق (ذرائع کے حوالہ سے) جس فریم ورک پر بات ہو رہی ہے وہ تین مراحل پر مشتمل ہو گا جن میں جنگ کا باضابطہ خاتمہ، آبنائے ہرمز کے بحران کا حل، اور مزید مذاکرات کیلئے 30 دن کی مدت کا آغاز شامل ہیں۔ ایران نے اپنا مؤقف 14 نکاتی تجویز کی صورت میں پیش کیا ہے، جو پاکستانی ثالثوں کے ذریعہ کئی بار دونوں جانب بھیجی جا چکی ہے۔ مذاکرات میں شامل دو پاکستانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ جس معاہدے پر بات ہو رہی ہے وہ جنگ ختم کرنے کیلئے کافی جامع ہے۔

بقائی نے خبردار کیا کہ واشنگٹن اپنے مؤقف بدلتا رہا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ”لیکن یہ کہنا کہ اِس کا مطلب ہے کہ معاہدے پر دستخط قریب ہیں، ایسا دعویٰ کوئی نہیں کر سکتا۔“ بقائی نے مزید کہا کہ ایران جوہری مذاکرات کی تفصیلات عوامی طور پر زیرِ بحث نہیں لائے گا۔ اِس مرحلہ پر ایران کی ترجیحات میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز میں استحکام یقینی بنانا شامل ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق تیل کی برآمدات پر پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی نوعیت کے معاملات ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر بیجنگ میں، وزیراعظم شہباز کی ٹرمپ کو مبارکباد

فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو ہفتہ کو تہران میں رات بھر جاری رہنے والے ایسے مذاکرات کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے تھے جنہیں پاکستانی فوج نے ”انتہائی نتیجہ خیز“ قرار دیا، اب وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ بیجنگ میں موجود ہیں۔ چین نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی جلد بحالی کیلئے ”مثبت کردار“ ادا کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ”امن کیلئے غیر معمولی کوششوں“ پر مبارکباد دی اور علاقائی راہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو ”نہایت مفید اور نتیجہ خیز“ قرار دیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ”انتہائی خلوص“ کے ساتھ امن کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور یہ امید بھی ظاہر کی کہ پاکستان ”بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی“ کرے گا۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times