spot_img

پاکستان کے بعد بنگلہ دیش بھی جدید چینی جے 10 سی ای لڑاکا طیاروں کی خریداری پر غور کر رہا ہے

بنگلہ دیش جدید چینی جے 10 سی ای لڑاکا طیاروں کی خریداری پر غور کر رہا ہے۔ پاکستان کے بعد بنگلہ دیش کی طرف سے بھی چینی جے 10 سی پلیٹ فارم اختیار کرنے سے بھارت کو مغرب، شمال اور مشرق تینوں جانب سے ایک ہی نوعیت کے جدید طیاروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — بنگلہ دیش کی جانب سے چین کے جدید جے 10 سی ای لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری کی اطلاعات نے جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن اور فضائی حکمتِ عملی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی۔ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو بھارت کو اپنی مغربی، شمالی اور مشرقی سرحدوں پر ایک ہی نوعیت کے چینی ساختہ لڑاکا طیاروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق بنگلہ دیش اپنی فضائیہ کی جدید کاری کے منصوبے کے تحت چینی ساختہ جے 10 سی ای ملٹی رول لڑاکا طیارے حاصل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ اِس حوالے سے ڈھاکا یا بیجنگ کی جانب سے باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دفاعی حلقوں میں اِس امکان پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

پاکستان فی الوقت جے 10 سی ای کا آپریٹر ہے، جبکہ چینی فضائیہ بھی جے 10 خاندان کے مختلف ورژن استعمال کرتی ہے۔ اگر بنگلہ دیش بھی اِسی پلیٹ فارم کو اختیار کرتا ہے تو بھارت پہلی مرتبہ ایسی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے جہاں اُس کے مغرب میں پاکستان، شمال میں چین اور مشرق میں بنگلہ دیش کے پاس ایک ہی نوعیت کے جدید چینی لڑاکا طیارے موجود ہوں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کسی باضابطہ فوجی اتحاد کی نشاندہی نہیں کرتی، تاہم اِس سے خطہ میں چین کے دفاعی اثر و رسوخ میں مزید اضافہ اور جنوبی ایشیاء کے فضائی توازن میں نمایاں تبدیلی کا عندیہ ضرور ملتا ہے۔

جے 10 سی ای چینی جے 10 سی کا برآمدی ورژن ہے جو جدید ریڈار، فضائی و زمینی اہداف پر حملے کی صلاحیت اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار استعمال کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ نسبتاً کم لاگت اور جدید صلاحیتوں کے باعث اِسے کئی ممالک مغربی متبادل کے مقابلہ میں ایک پُرکشش انتخاب سمجھتے ہیں۔

اِس ممکنہ معاہدے کو گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستانی فضائیہ نے پہلی مرتبہ جے 10 سی ای طیاروں کو عملی طور پر کارروائی میں استعمال کیا جس میں فرانسیسی ساختہ رافیل سمیت جدید بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔ مئی 2025 میں ہونے والے اِس تصادم کے بعد بین الاقوامی دفاعی مبصرین کی توجہ اِس پلیٹ فارم پر مرکوز ہو چکی ہے۔ پاک بھارت فضائی جھڑپوں نے چینی ساختہ جے 10 سی ای کی جنگی صلاحیتوں سے متعلق عالمی سطح پر بحث کو مزید تقویت دی جس کے بعد اِس طیارے میں کئی ممالک کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا دکھائی دیا۔

بنگلہ دیش گزشتہ کئی برسوں سے اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر جے 10 سی ای کی خریداری عمل میں آتی ہے تو یہ نہ صرف اُس کی فضائی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گی بلکہ چین کے ساتھ دفاعی تعاون کو بھی نئی سطح پر لے جائے گی۔

بھارت کیلئے یہ پیش رفت صرف ایک نئے لڑاکا طیارے کے اضافہ تک محدود نہیں ہو گی بلکہ اُسے اپنی مشرقی سرحد پر بھی جدید فضائی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ نئی دہلی پہلے ہی پاکستان کی فضائی جدید کاری اور چین کی بڑھتی عسکری موجودگی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی مُلک کی جانب سے جدید لڑاکا طیارے خریدنے کا مطلب لازماً جارحانہ پالیسی اختیار کرنا نہیں ہوتا، بنگلہ دیش کی بنیادی ترجیح اپنی فضائیہ کی جدید کاری اور قومی دفاع کو مضبوط بنانا ہو سکتی ہے۔ تاہم علاقائی سطح پر اِس کے سٹریٹیجک اثرات سے انکار بھی ممکن نہیں ہے۔

اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے تو جنوبی ایشیاء میں فضائی طاقت کا توازن ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو سکتا ہے، جہاں چین نہ صرف خطہ کی ایک بڑی فوجی قوت ہوگا بلکہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اہم شراکت دار کے طور پر بھی اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرے گا۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times