spot_img

بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کیلئے استعمال کر رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کی بنیاد ہے۔ روکسولانا زیگون

بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کی بنیاد ہے۔ بھارت معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کر کے دوطرفہ دیرینہ تنازع کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ روسی ماہرِ بین الاقوامی امور ڈاکٹر روکسولانا زیگون

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — روسی تجزیہ کار و ماہرِ بین الاقوامی امور روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہے، بھارت نے معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کر کے دوطرفہ دیرینہ تنازع کو مزید گہرا کیا ہے جس سے سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

روس کی یونیورسٹی آف ورلڈ سیولائزیشن میں سائنٹیفک سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ سٹریٹیجک ریسرچ کی ڈائریکٹر روکسولانا زیگون نے اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالہ سے منعقد کیے گئے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا قومی نصب العین ”ایمان، اتحاد، تنظیم“ ہے جو بانی پاکستان محمد علی جناح کے افکار سے راہنمائی لیتا ہے، اسلام آباد میں (امریکا و ایران) امن مذاکرات پاکستان کے اُس کردار کی عکاسی کرتے ہیں جو وہ عالمی برادری کیلئے سفارت کاری، امن اور مکالمہ کے فروغ میں ادا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے پاکستانی قوم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 1947 میں آزادی کے بعد سے ایمان، اتحاد اور تنظیم کے ویژن کے ساتھ خودمختاری، شناخت اور وقار کا سفر جاری رکھا ہے جبکہ یہ اصول پاکستانی قوم کے خون کے ہر قطرے اور قومی مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ پاکستانی قوم نے تاریخی آزمائشوں میں اپنی ثابت قدمی، حوصلے اور وقار کے ساتھ خود کو منوایا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے روکسولانا زیگون کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کی بنیاد ہے، اِس عنوان کا ہر لفظ جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی اور استحکام کیلئے سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، بدقسمتی سے بھارت نے اپریل 2025 کے بحران کے بعد 66 سالہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا جس سے نہ صرف ایک دوطرفہ دیرینہ تنازع مزید گہرا ہوا بلکہ جنوبی ایشیاء میں امن، بین الاقوامی قانون اور انسانی پہلوؤں کے حوالہ سے بھی سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالہ سے بھارتی ہٹ دھرمی سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے 5 جون کو کہا کہ سندھ طاس معاہدہ تب تک معطل رہے گا جب تک پاکستان مبینہ سرحد پار دہشتگردی ختم نہیں کرتا، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بیان کہ ”خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے“ اور وزیرِ آبی وسائل کا دعویٰ کہ ”پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہ جانے دیں گے“ پانی کو (بھارت کی جانب سے) سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

روسی جیو پولیٹیکل تجزیہ کار و ماہرِ بین الاقوامی امور کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ کے طاس میں واقع دریاؤں کے استعمال کو منظم کرتا ہے جس میں بھارت، پاکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں۔ پاکستان کی تقریباً 90 فیصد آبادی اِسی طاس میں رہتی ہے جہاں سے مُلک کی 90 فیصد سے زائد زرعی زمین سیراب ہوتی ہے اور بیشتر پن بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ پانی کی مکمل بندش ہی واحد خطرہ نہیں ہے بلکہ مغربی دریاؤں پر ڈیمز سے پانی کے بہاؤ میں رد و بدل، کاشت کے موسم میں سیلاب اور آبپاشی کے اہم اوقات میں پانی روکنے جیسے اقدامات پاکستان کی زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان 2025 میں دو مرتبہ اور مئی 2026 میں ایک مرتبہ دریائے چناب میں غیرمعمولی بہاؤ سے متعلق بھارت کو باضابطہ طور پر آگاہ کر چکا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری کی گنجائش مسلسل کم ہو رہی ہے جبکہ دریا کے بہاؤ سے متعلق تعاون میں کمی، بالائی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی توسیع اور موسمیاتی دباؤ دو جوہری ریاستوں کے درمیان بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔ درحقیقت مسئلہ کسی ڈیم کا نہیں، ایسے متعدد منصوبوں کا ہے جو معاہدے کے قانونی ڈھانچے کو کمزور کرتے ہوئے پانی کو تزویراتی ہتھیار میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times