نیو یارک (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی جریدہ ’’بلومبرگ‘‘ کے مطابق ”موڈیز ریٹنگز“ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ بنیادی عوامل میں بیرونی سطح پر مُلک کی مضبوط ہوتی مالی پوزیشن، بہتر مالیاتی اشاریوں اور مقامی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں کمی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کی کریڈٹ پروفائل میں جاری بحالی کا تسلسل ہے۔
موڈیز نے پیر کو جاری اپنے بیان میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ سی اے اے 1 سے بڑھا کر بی 3 کر دی جبکہ آؤٹ لُک کو مستحکم برقرار رکھا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق مسلسل معاشی استحکام کے نتیجہ میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہوا ہے جس سے مُلک کو درپیش بیرونی مالی خطرات میں کمی آئی ہے۔
موڈیز نے کہا ہے کہ شرحِ سود میں کمی کے باعث مقامی قرضوں کی فنانسنگ لاگت میں کمی اور مالیاتی پوزیشن میں بہتری سے پاکستان کیلئے قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کا مضبوط ہوتا کریڈٹ پروفائل اب ماضی کے معاشی ادوار کے مقابلہ میں بیرونی جھٹکوں کا سامنا کرنے کی زیادہ صلاحیت اور لچک بھی دکھا رہا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے پیدا ہونے والے خطرات بھی شامل ہیں۔
یہ اپگریڈیشن ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کئی برس کی شدید مالی مشکلات کے بعد اپنے زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ مستحکم کر رہا ہے اور معاشی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ایندھن کی درآمدات پر انحصار کرنے والی پاکستانی معیشت 2023 میں خودمختار ڈیفالٹ کے انتہائی قریب پہنچ گئی تھی اور اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے بحران یا توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات سے بڑی حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں پیر کے روز سٹاک مارکیٹ بند ہونے کے بعد موڈیز کی جانب سے ریٹنگ میں اضافہ کا اعلان کیا گیا۔ بلومبرگ کی جانب سے ترتیب دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے بیشتر ڈالر بانڈز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ 2051 میں میچور ہونے والے بانڈز میں 20 اگست کے بعد سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اِس سے قبل ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے بھی جولائی میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کیا تھا جس کی وجہ مُلک کے بہتر ہوتے معاشی و مالی حالات کو قرار دیا گیا۔
موڈیز نے خبردار کیا کہ پاکستان کا کریڈٹ پروفائل اب بھی بعض کمزوریوں کے باعث خطرات سے دوچار ہے۔ اُن میں بیرونی مالی پوزیشن کی نزاکت، قرضوں کی ادائیگی کی محدود استطاعت اور حکومت کا نسبتاً محدود محصولات کا نظام شامل ہیں۔
پاکستان نے رواں برس اپریل میں ایک نجی پلیسمنٹ کے ذریعہ عالمی بانڈ فروخت کرتے ہوئے چار سال سے زائد عرصہ کے بعد بین الاقوامی قرض مارکیٹ میں واپسی کی تھی۔ ایک ماہ بعد پاکستان نے چین کی مقامی مارکیٹ میں پہلی مرتبہ یوان میں جاری کردہ بانڈز فروخت کیے، جو مُلک کی غیر ملکی کرنسی میں اب تک کی کم ترین لاگت والی بانڈ فنانسنگ قرار دی گئی۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17 اعشاریہ 1 ارب ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔
موڈیز کی جانب سے ریٹنگ اپگریڈیشن کو پاکستان کی معاشی بحالی کیلئے ایک مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ مزید بہتری کیلئے بیرونی مالی استحکام، قرضوں کی استطاعت اور حکومتی آمدن میں مستقل اضافہ ضروری رہے گا۔




