کروڑوں عوام کے منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کر دیا گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا، میرا مشن پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
پاکستان کی جانب سے آج صبح ایران کے اندر دہشتگرد ٹھکانوں پر مؤثر حملے کیے گئے ہیں، پاکستان کی خودمختاری اور کسی بھی مہم جوئی کے خلاف پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہمارا عزم غیرمتزلزل ہے۔
پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی، آپریشن مرگ بر سرمچار کے تحت ایران کے صوبہ سیستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی۔ مصدقہ انٹیلیجنس معلومات پر کی گئی کارروائی قومی سلامتی کو خطرات سے بچانے اور دفاع کے غیرمتزلزل عزم کا مظہر ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ
الیکشن تیر اور شیر کے درمیان ہے، تیر اور جیالے میدان میں لیکن شیر بلی کی طرح گھر میں چھپا بیٹھا ہے، چوتھی بار وزیراعظم بننے کی کوشش کرنے والے کے پاس منشور تک نہیں، میں عوام کا حق اسلام آباد سے چھین کر لاؤں گا۔
پاکستانی سرزمین پر ایرانی حملہ ناقابلِ قبول، پاکستان غیر قانونی اقدام کا جواب دینے کا مکمل حق رکھتا ہے، نتائج کی ذمہ داری ایران پر عائد ہو گی، ایرانی سفیر کو پاکستان آنے سے روک دیا، پاکستانی سفیر کو بھی ایران سے واپس بلا لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Joe Kent, Director of the National Counterterrorism Center, has resigned with immediate effect, stating that he cannot support the US war in Iran, arguing that Tehran posed no imminent threat, and questioning the basis on which the conflict has been pursued.
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.