حافظ آباد — پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، انہوں نے حافظ آباد میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کروڑوں عوام کے منتخب وزیراعظم نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزارتِ عظمٰی سے نہ ہٹایا جاتا تو پاکستان اج ایشین ٹائیگر ہوتا۔
میاں نوز شریف نے کہا ہے کہ میں پہلے بھی کئی بار حافظ آباد آیا ہوں لیکن آج جو مناظر دیکھ رہا ہوں وہ پہلے کبھی نہیں دیکھے، نواز شریف آپ سے پیار کرتا ہے اور آپ بھی نواز شریف سے پیار کرتے ہیں، میں ملک سے باہر تھا لیکن میں نے ہر گھڑی آپ کو یاد رکھا، میرا مشن پاکستان کو اپنے پاؤں اور اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہے، ہم انشاءاللّٰه اس مشن کو پورا کریں گے، انشاءاللّٰه ہم سب مل کر دوبارہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
قائد مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ 2017 میں 23 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو آج حافظ آباد میں کوئی بھی شخص بےروزگار نہ ہوتا، اگر نواز شریف کو جعلی مقدمات میں الجھا کر وزارتِ عظمیٰ سے فارغ نہ کیا جاتا تو آج حافظ اباد کا ہر گھر خوشحال ہوتا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر نواز شریف کو اقتدار نہ چھینا جاتا تو آج پاکستان میں ہر نوجوانوں کے پاس باعزت روزگار ہوتا، پاکستان کا ہر کسان خوشحال ہوتا، روٹی چار روپے کی ہوتی، آٹا سستا ہوتا، بجلی سستی ہوتی اور بجلی کے بل اتنے زیادہ نہ آتے، غریبوں کیلئے ادویات مفت ہوتیں، ملک میں مہنگائی نہ ہوتی، ڈالر آج بھی سستا ہوتا اور پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتا۔
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان سے لوڈشیڈنگ کو ختم کیا، ہم نے دہشتگردی کو ختم کیا، پاکستان کے اندر 2013 میں لوگ ایک دوسرے کا گلا کاٹتے تھے، روزانہ بم دھماکے ہوتے تھے اور بےگناہ لوگ مارے جاتے تھے لیکن پھر ہم نے ملک میں امن کو بحال کیا، اگر وہ سلسلہ جاری رہتا تو آج بہت اچھی حالت میں ہوتا اور دہشتگردی دوبارہ سر نہ اٹھا سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کو وزارتِ عظمٰی سے نہ ہٹایا جاتا تو آج پاکستان ایشین ٹائیگر ہوتا، اگر ہماری حکومت رہتی تو ایک نیا موٹروے حافظ آباد کے اندر سے بھی گزر رہا ہوتا، وہ وقت پھر آئے گا اور انشاءاللّٰه حافظ آباد کو وہ مقام دیا جائے گا جس کا وہ مستحق ہے، انشاءاللّٰه وہ وقت آئے گا کہ حافظ آباد ترقی کرے گا اور پھر حافظ آباد اور لاہور میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔