وال سٹریٹ جرنل کے مطابق انٹر سیپٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے کردار ادا کیا تھا تاہم اس الزام کا کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو یہ الزام قابلِ تمسخر ہے۔
تحریک انصاف جس نے امریکی سازش اور ایبسیلیوٹلی ناٹ کا نعرہ لگا کر بیانیہ بنایا اب اپنے ہی اس نعرے کے برخلاف امریکی اور مغربی سفارتکاروں سے مدد مانگتے ہوئے سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی جیل سے رہائی کیلئے مدد مانگ لی۔
سیاسی پختگی رکھنے والا کوئی بھی شخص اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ نہیں بول سکتا جس طرح عمران خان جھوٹ بولتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ ان کے پاس سائفر موجود ہے لیکن پھر کہا کہ وہ مجھ سے کہیں کھو گیا ہے اور اب امریکہ میں ایک نیوز ویب سائٹ نے اس کو شائع کر دیا ہے۔
پاکستان کے سیاستدان اکثر پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے استعمال کرتے رہتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان نے بھی ایسا ہی کیا، عمران خان نے سفارتی گفتگو کو اپنی سیاست چمکانے کیلئے استعمال کیا اور کہا کہ دیکھو امریکہ یہ چاہتا ہے۔
On the first anniversary of Marka-e-Haq, Pakistan's military has dismissed the Indian Army Chief's "geography or history" warning as the rhetoric of a state suffering "a bankruptcy of cognitive capacities", and has reminded Delhi that any attempt to target a nuclear neighbour would be neither geographically confined nor politically survivable.
Senior US Congressman Jack Bergman, Co-Chair of the Congressional Pakistan Caucus, has formally thanked Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir for Pakistan's role in the ongoing US-Iran peace negotiations, describing Islamabad's contribution as "indispensable" and a demonstration of "true statesmanship" in a letter dated 15 May and sent on House of Representatives letterhead.
اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی حیثیت نے اسے بیانیے کی جنگ کا ہدف بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے لِنڈسے گراہم کی تنقید تک اور بھارتی میڈیا کے منظم بیانیہ سے پاکستان کے اندر نئے دہشتگردانہ حملوں تک ایک نئی مخالفانہ لَہر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.