The Senate of Pakistan passed the 26th Constitutional Amendment Bill by a two-thirds majority, marking a historic milestone in the country’s legislative process. The bill, presented by Law Minister Azam Nazir Tarar, encountered no opposition and received overwhelming support across all clauses.
سینیٹ اجلاس میں 26ویں آئینی ترمیم کا بِل دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔ سینیٹ کے 65 ارکان نے 26ویں آئینی ترمیم کے بِل کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ سینیٹ کے 4 ارکان نے 26ویں آئینی ترمیم کے بِل کے خلاف ووٹ دیا ہے
آئین کے مطابق ایڈہاک ججز کی تعیناتی چیف جسٹس نے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن نے کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے توسیع میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اس تجویز سے متفق تھے۔ تحریک انصاف رہنماؤں پر آرٹیکل 6 کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا متن آئین کے برعکس ہے، عدالت نے آئین کی تشریح کی بجائے اسے از سرِ نو تحریر کیا ہے، آج کا فیصلہ سوال گندم اور جواب چنا کے مصداق ہے، نظرِ ثانی میں جانے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
سینٹ کے اراکین کی تنخواہ ٹیکس کٹوتی کے بعد 1 لاکھ 70 ہزار روپے جبکہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہ ٹیکس کٹوتی کے بعد 10 لاکھ روپے سے کم نہیں بنتی۔ پارلیمان کو آئین کے تحت قانون سازی کا حق حاصل ہے اور اس حق کو کسی اور ادارے کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔