President Zardari has signed the 26th Constitutional Amendment Act into law, and the NA Secretariat has issued a gazette notification. The Amendment, which was passed with a two-thirds majority in both the Senate and the NA, has now been enacted into law.
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 26ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیئے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم بطور قانون نافذ العمل ہو گئی۔
The Senate of Pakistan passed the 26th Constitutional Amendment Bill by a two-thirds majority, marking a historic milestone in the country’s legislative process. The bill, presented by Law Minister Azam Nazir Tarar, encountered no opposition and received overwhelming support across all clauses.
سینیٹ اجلاس میں 26ویں آئینی ترمیم کا بِل دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔ سینیٹ کے 65 ارکان نے 26ویں آئینی ترمیم کے بِل کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ سینیٹ کے 4 ارکان نے 26ویں آئینی ترمیم کے بِل کے خلاف ووٹ دیا ہے
آئینی عدالت اور ججز کی تقرری کا طریقہ کار ہمارے مطالبات ہیں، انصاف کی فراہمی کیلئے برابری کی نمائندگی یقینی بنانا ہو گی، صوبوں سے برابری پر مصنفین بیٹھیں گے تو مسائل حل ہونگے، جو لوگ مجھے کہہ رہے ہیں پیچھے ہٹ جاؤ میں انہیں کہتا ہوں تم پیچھے ہٹ جاؤ، بلاول بھٹو زرداری۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔