دسمبر میں 3 اعشاریہ 1 ارب ڈالرز ترسیلاتِ زر، گزشتہ برس کی نسبت 29 فیصد اضافہ؛ اصلاحات، کرنسی استحکام اور معاشی بحالی کے حکومتی اقدامات نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے اعتماد میں اضافہ کیا، آئندہ برس ترسیلاتِ زر میں ریکارڈ اضافہ متوقع
پاکستانی برآمدات میں 10 فیصد سے زائد کا اضافہ، حجم 16 اعشاریہ 5 بلین ڈالرز سے بڑھ گیا۔ ٹیکسٹائل اور چاول کے شعبوں میں پاکستان کے قدم مضبوط ہوئے جبکہ درآمدات پر مستحکم کنٹرول سے تجارتی خسارہ میں نمایاں کمی آئی۔
Pakistan’s exports have surged by 10.52pc, reaching an impressive $16.5 billion in the first half of 2024. This growth reflects strong performances in textiles and rice exports, while controlled imports have helped narrow the trade deficit, signalling improved economic management.
Pakistan Stock Market begins 2025 with strong momentum, breaking the 117,000-point milestone and reflecting strong investor confidence. Unprecedented trading volumes and values highlight renewed economic optimism and a bullish outlook.
پاکستان سٹاک مارکیٹ نے 2024 میں 22 برس کی نسبت بہترین سالانہ منافع کیساتھ تقریباً تمام مارکیٹس کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آئندہ برس معاشی حالات میں مزید بہتری، شرح سود و افراطِ زر میں کمی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔