گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ براہِ راست اقتصادی اور دفاعی تعاون بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت اسلام آباد نے پہلی بار یورینیم سے افزودہ نایاب معدنیات امریکہ بھیجی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ بھی قریب ہے۔ یہ معاہدے بھارت کیلئے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہیں۔
پاکستان نے امریکہ کو بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں بحیرۂ عرب پر نئی بندرگاہ قائم کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کی ہے۔ منصوبے کا مقصد امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے معدنی وسائل تک واشنگٹن کی رسائی بڑھانا ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو چین، امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینے پر مرکوز ہے۔
ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلے ہیں، تعاون کا رشتہ مزید مضبوط بنائیں گے، ہم نے بلوچستان سے دہشتگردی اور لوڈشیڈنگ کو ختم کیا، اگر سی پیک اپنے اہداف کے مطابق چلنے دیا جاتا تو بلوچستان اچھی پوزیشن میں ہوتا، نواز شریف
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔