عمران خان نے 14 مئی کو زوم میٹنگ کے دوران سب کو 9 مئی کے واقعات کی مذمت سے منع کر دیا اور کہا کہ کوئی بھی دفاعی پالیسی کی جانب نہیں جائے گا۔ عمران خان زوم میٹنگز میں اپنے ترجمانوں کو فوج کے خلاف بیانات دینے کی ہدایات جاری کرتے تھے۔
2019 جنرل عاصم منیر بطور آئی ایس آئی چیف 2019 میں بشری بی بی اور خاندان کے دوسرے افراد کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کرنا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے انہیں آئی ایس آئی چیف کے عہدہ سے برطرف کروا دیا۔
سابق وزیراعظم نے امریکی کانگریس کی خاتون رکن میکسین واٹرز سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے حق میں کوئی بیان جاری کریں کیونکہ ان کا بیان پاکستان میں ارتعاش پیدا کریگا جو پاکستان کے موجودہ حالات میں عمران خان اور تحریکِ انصاف کیلئے مددگار ہو گا۔
میرے حامیوں کو معلوم ہے کہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے پیچھے حکومت کا ہاتھ تھا جبکہ اس واقعہ کی تحقیقات بھی نہیں کی گئیں۔جب مجھے فوج نے اغواء کروایا تو ایسا سخت ردعمل تو آنا ہی تھا۔
کسی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے مگر عدلیہ کی موجودہ حالت سب کے سامنے ہے جہاں توشہ خانہ اور دیگر کیسز میں بھی سٹے دے دیا گیا، ریاست مظلوم کی حیثیت سے انصاف کی منتظر ہے مگر چیف جسٹس آئین کی بجائے لاڈلے اور ساس کے قانون کے تحت ایک جماعت کیلئے سہولت کاری کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔