برطانوی جریدے "دی ٹیلی گراف" میں 21 اکتوبر 2007 کو عمران خان نے بینظیر بھٹو کو خود کارساز بم دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سانحہ ناگزیر تھا اور اس کا سب کو انتظار تھا۔
عمران خان کا دوسری مرتبہ حکومت میں آنا ممکنہ طور پر پاکستان کے اندرونی مسائل میں مزید اضافہ کر دے گا اور پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی خرابی کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
حریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور بشریٰ نامی خاتون کا نکاح غیر شرعی تھا کیونکہ اس وقت تک بشریٰ کی خاور مانیکا سے طلاق کے بعد عدت کا وقت مکمل نہیں ہوا تھا۔ مفتی سعید نے بتایا کہ انہیں اس معاملہ سے لاعلم رکھا گیا اور جھوٹ بولا گیا کہ نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ حقیقت سے واقف تھے۔
عمران خان نے دعوی کیا کہ ان کے دور میں میڈیا آزاد تھا اور میڈیا کو جتنی آزادی تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں ملی، اتنی پہلے کبھی نہیں ملی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔
اس ملک کے عوام کے لیے نہ یہ فیصلہ نیا ہے نہ عدالت کی یہ بے انصافی۔ بھٹو کے قتل سے لیکر ہر آمر کے حق میں فیصلے دینے والے آج بھی زندہ ہیں۔ آج بھی ترازو کے پلڑے برابر نہیں۔ آج بھی میزان طاقتوروں کی جانب جھکا ہوا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔