برطانوی جریدے "دی ٹیلی گراف" میں 21 اکتوبر 2007 کو عمران خان نے بینظیر بھٹو کو خود کارساز بم دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سانحہ ناگزیر تھا اور اس کا سب کو انتظار تھا۔
عمران خان کا دوسری مرتبہ حکومت میں آنا ممکنہ طور پر پاکستان کے اندرونی مسائل میں مزید اضافہ کر دے گا اور پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی خرابی کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
حریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور بشریٰ نامی خاتون کا نکاح غیر شرعی تھا کیونکہ اس وقت تک بشریٰ کی خاور مانیکا سے طلاق کے بعد عدت کا وقت مکمل نہیں ہوا تھا۔ مفتی سعید نے بتایا کہ انہیں اس معاملہ سے لاعلم رکھا گیا اور جھوٹ بولا گیا کہ نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ حقیقت سے واقف تھے۔
عمران خان نے دعوی کیا کہ ان کے دور میں میڈیا آزاد تھا اور میڈیا کو جتنی آزادی تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں ملی، اتنی پہلے کبھی نہیں ملی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔
اس ملک کے عوام کے لیے نہ یہ فیصلہ نیا ہے نہ عدالت کی یہ بے انصافی۔ بھٹو کے قتل سے لیکر ہر آمر کے حق میں فیصلے دینے والے آج بھی زندہ ہیں۔ آج بھی ترازو کے پلڑے برابر نہیں۔ آج بھی میزان طاقتوروں کی جانب جھکا ہوا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.