تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے امریکہ میں اپنی ملاقاتوں میں اس بات کی یقین دہانی کروانے کی کوشش کی ہے کہ تحریک انصاف اورعمران خان امریکہ مخالف نہیں ہیں۔
جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ اگر آپ الیکشن چاہتے ہیں تو اپنی حکومتیں گرادیں تو ہم نے اپنی حکومتیں ختم کردیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب میری حکومت ختم ہورہی تھی تو میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ ہماری حکومت نہ گراو ہم تمہیں ایکسٹیشن دے دیے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے قبل از انتخابات کی خواہش میں پاکستان کو ایک آئینی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس معاملہ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال مرکزی کردار بن چکے ہیں جنہوں نے عمران خان کی جانب سے دو صوبوں کی اسمبلیوں کو تحلیل کیے جانے کے بعد ازخود نوٹس لے کر انتخابات کا حکم جاری کیا۔
نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ آنے والے عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کو سیاسی جبر،خارجہ تعلقات میں سرد مہری، سرمایہ کاری میں کمی، عدم استحکام اور دیوالیہ پن کا سامنا رہا۔ اقتدار سے عدم اعتماد کے ذریعہ نکالے جانے کے بعد عمران خان نے ملک میں افراتفری برپا رکھی جس سے بحران کا شکار ملک مزید غیر مستحکم ہورہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.