تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے امریکہ میں اپنی ملاقاتوں میں اس بات کی یقین دہانی کروانے کی کوشش کی ہے کہ تحریک انصاف اورعمران خان امریکہ مخالف نہیں ہیں۔
جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ اگر آپ الیکشن چاہتے ہیں تو اپنی حکومتیں گرادیں تو ہم نے اپنی حکومتیں ختم کردیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب میری حکومت ختم ہورہی تھی تو میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ ہماری حکومت نہ گراو ہم تمہیں ایکسٹیشن دے دیے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے قبل از انتخابات کی خواہش میں پاکستان کو ایک آئینی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس معاملہ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال مرکزی کردار بن چکے ہیں جنہوں نے عمران خان کی جانب سے دو صوبوں کی اسمبلیوں کو تحلیل کیے جانے کے بعد ازخود نوٹس لے کر انتخابات کا حکم جاری کیا۔
نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ آنے والے عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کو سیاسی جبر،خارجہ تعلقات میں سرد مہری، سرمایہ کاری میں کمی، عدم استحکام اور دیوالیہ پن کا سامنا رہا۔ اقتدار سے عدم اعتماد کے ذریعہ نکالے جانے کے بعد عمران خان نے ملک میں افراتفری برپا رکھی جس سے بحران کا شکار ملک مزید غیر مستحکم ہورہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔