یرطانوی اخبار ڈیل میل کو دیے گئے انٹرویو کیمطابق عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان کا کہنا ہے کہ ٹیریان عمران خان کی بیٹی ہے جس کی والدہ عمران خان کی سابقہ گرل فرینڈ سیتا وائٹ ہے۔
کدھر گیا امریکی سازش، حقیقی آزادی، ایبسلیوٹلی ناٹ، غلامی نامنظور کا بیانیہ آج اس بیانیے کی نہ صرف موت ہوگئی ہے بالکہ اسکی تدفین اور نماز جنازہ زمان پارک میں ہونی چاہیے۔
عمران خان نے جنرل باجوہ کو سپر کنگ کا لقب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سب کچھ جنرل باجوہ کی مرضی سے ہوتا تھا ہر اچھی چیز کا کریڈٹ وہ لے لیتے تھے مجھے تو بس پنچنگ بیگ بنایا ہوا تھا ساری تنقید مجھ پر ہوتی تھی اور گالیاں بھی مجھے پڑتی تھیں۔
شہباز گل کے لیپ ٹاپ سے جن 114 فوجی افسران اور انکی فیملیز کا ڈیٹا برآمد ہوا اسکا استعمال یوں کیا گیا کہ ان فوجی افسران اور انکی فیملیز کے ناموں سے ٹویٹر سمیت دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاونٹس بنائے گئے اور ان اکاونٹس کو تحریک انصاف کیلئے استعمال کیا گیا۔
میری حکومت گرانے کا ذمہ دار امریکہ نہیں بالکہ جنرل باجوہ ہیں جو شواہد سامنے آئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت گرانے کا منصوبہ امریکہ نے نہیں بنایا بالکہ یہ جنرل باجوہ تھے جنہوں نے امریکہ کو باور کروایا کہ میں اینٹی امریکن ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔