While New Delhi continues to sell Pakistan internally as a terrorist state, Islamabad is increasingly positioning itself as a mediator, a bridge-builder and a country whose real strategic mission is peace.
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی اور “دما دم مست قلندر” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناتے زمینی حقائق اور حالات سے پوری طرح واقف ہے اور تمہاری اوقات بھی جانتی ہے۔
بھارت مقبوضہ کمشیر سمیت مخصوص آبادیوں کو نشانہ بنانے، گھر و املاک مسمار کرنے اور جاسوسی کیلئے اسرائیلی ماڈل پر چل رہا ہے۔ مودی حکومت کے طرزِ حکمرانی اور پالیسیز میں اسرائیلی تصور جھلکتا ہے۔ ہندوتوا نظریہ صیہونیت و اسرائیل سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی حالیہ وارداتیں ہائبرڈ جنگ کی منظم لہریں اور بھارتی ’’آپریشن سندور‘‘ کا تسلسل دکھائی دیتی ہیں۔ ملکی بقاء اور سلامتی کیلئے دشمن قوتوں کے عزائم کو شکست دینا ہو گی جس کیلئے قومی اتحاد، مسلسل و مؤثر ریاستی پالیسیز اور سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
Pakistan is pushing to convert its ceasefire mediation into something larger: progress on the nuclear issue at the centre of the Iran crisis. But while optimism has grown, key disputes remain unresolved and officials say a second round of talks has not yet been formally dated.
سعودی عرب نے پاکستان کیلئے 8 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان کر دیا، اسٹیٹ بینک میں 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی توسیع اور مزید 3 ارب ڈالر کا اضافہ شامل۔ یہ اقدام پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور استحکام کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
Pakistan and the US are exploring ways to deepen their economic partnership as Finance Minister Muhammad Aurangzeb uses World Bank and IMF meetings in Washington to pitch Pakistan as a resilient and reform-focused economy.
وائٹ ہاؤس نے پاکستان کو امریکا ایران سفارتی عمل کا مرکزی کردار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے مدد کی پیشکش کی تاہم مذاکراتی عمل میں ’’اسلام آباد ہی واحد ثالث ہے‘‘ جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح ہے کہ رابطہ پاکستان کے ذریعہ ہی جاری رکھا جائے۔
The White House has publicly declared Pakistan the sole mediator in the current United States-Iran negotiations, a striking statement that formalises Islamabad’s role as the main diplomatic channel in a volatile and unfinished process.