وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی اور “دما دم مست قلندر” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناتے زمینی حقائق اور حالات سے پوری طرح واقف ہے اور تمہاری اوقات بھی جانتی ہے۔
بھارت مقبوضہ کمشیر سمیت مخصوص آبادیوں کو نشانہ بنانے، گھر و املاک مسمار کرنے اور جاسوسی کیلئے اسرائیلی ماڈل پر چل رہا ہے۔ مودی حکومت کے طرزِ حکمرانی اور پالیسیز میں اسرائیلی تصور جھلکتا ہے۔ ہندوتوا نظریہ صیہونیت و اسرائیل سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی حالیہ وارداتیں ہائبرڈ جنگ کی منظم لہریں اور بھارتی ’’آپریشن سندور‘‘ کا تسلسل دکھائی دیتی ہیں۔ ملکی بقاء اور سلامتی کیلئے دشمن قوتوں کے عزائم کو شکست دینا ہو گی جس کیلئے قومی اتحاد، مسلسل و مؤثر ریاستی پالیسیز اور سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
Pakistan’s military has described terrorism as the country’s most serious threat, pointing to significant gains in 2025 and warning that any future aggression from India or Afghanistan would trigger a decisive response.
Pakistan has moved to shut down the impression of informal peace talks with the Afghan Taliban, insisting that there will be no dialogue without concrete and verifiable action against cross-border militancy.
The Diplomat’s piece rests on Ajmal Sohail’s unverified claims, presenting a politically situated Afghan figure as a neutral expert while offering no credible independent evidence for its most serious allegations. It also fails the basic logic test: Pakistan’s all-weather partnership with China makes the claim that Islamabad is targeting Chinese interests extremely difficult to sustain.
قطر سمیت خلیجی و عرب ممالک پر ایرانی حملے بلاجواز ہیں جن کی منصوبہ بندی پہلے سے کی جا چکی تھی۔ ایران نے قطر میں سویلین و انرجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو خطرناک و غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ ایران کے غلط اندازوں نے اعتماد سمیت سب کچھ تباہ کر دیا۔
ایران کی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کر دیا۔ وہ ایک ایسے جنگی ماحول میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ریاستی نظام اپنی بقاء کیلئے سب کچھ داؤ پر لگا چکا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ریاستی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی سخت گیر شخصیت کے حامل ہیں۔