پاکستان نے اپنا "نیا نارمل" متعارف کرا دیا ہے؛ کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں جوابی کارروائی تیز، فیصلہ کن اور تباہ کن ہوگی۔ عوام اور مسلح افواج دشمن کے ہر کونے تک لڑائی لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بھارت شاید اپنی تباہ شدہ جنگی طیاروں اور پاکستان کے دوررس ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کو بھول چکا ہے۔
US President Donald Trump, in an address to American generals, praised Pakistan’s Field Marshal Asim Munir for recognising his role in stopping a potential Pakistan–India war and saving millions of lives. Trump called the praise an honour, referenced the downing of seven planes, and said trade pressure was used to defuse the crisis.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جنرلز سے خطاب کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوے کہا کہ فیلڈ مارشل نے انہیں پاک بھارت جنگ رکوانے اور لاکھوں جانیں بچانے پر سراہا، جسے وہ اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ نے سات طیارے گرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ روکنے کیلئے انہوں نے تجارتی دباؤ استعمال کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیمطابق انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران براہِ راست مداخلت کرکے ایک ممکنہ جنگ کو روک دیا، جس سے لاکھوں زندگیاں محفوظ ہوئیں۔ ان کے مطابق اُس وقت دونوں ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر تھیں اور سات طیارے گرائے جا چکے تھے، تاہم امریکی مداخلت سے صورتحال قابو میں آ گئی۔
Prime Minister Shehbaz Sharif at the UN General Assembly claimed Pakistan’s military success over India including the downing of seven jets and offered comprehensive peace talks while pledging support for a Palestinian state and calling for recognition of Pakistan’s sacrifices against terrorism presenting Pakistan as both a security bulwark and a bridge for regional peace.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔