امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ تعاون کو انسدادِ دہشت گردی سے آگے بڑھا کر تجارت، معیشت اور علاقائی استحکام تک لے جانا امریکی ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کی 2025 میں سفارتی معجزات کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کی غیر معمولی کامیابیاں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، ایران اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے خطے کا توازن بدل دیا ہے۔
سیاسی مقاصد کے حصول اور اداروں میں اہم تعیناتیوں کیلئے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد اب SCO اجلاس اور عدالتی چیف کی تعیناتی کے موقع پر بھی افراتفری پھیلائی جا رہی ہے۔ خلفشار کا یہ راستہ ملک و قوم کیلئے خطرناک ہے۔
شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن سمٹ میں کئی بڑے سربراہانِ مملکت آ رہے ہیں۔ پاکستان روس، چین، برطانیہ اور امریکہ سمیت سب کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات چاہتا ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب جا رہی ہے۔ پاکستان میں صرف ایک پارٹی کی ضد کی وجہ سے سیاسی بھونچال ختم نہیں ہو رہا۔
شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر احتجاج اور ہنگامہ آرائی بین الاقوامی تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہو گی، پی ٹی آئی پاکستان پر امریکہ کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر فرق نہیں پڑ رہا، عمران خان نے سفارتی سطح پر ایسی باتیں کیں جو تھڑے پر بیٹھ کر کی جاتی ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔
بھارت آپریشن سندور کا فاتح نہیں تھا۔ بھارت کو حجم میں بڑا مُلک ہوتے ہوئے واضح برتری حاصل کرنا چاہیے تھی مگر ایسا نہ ہوا۔ جنگ کے دوران پاکستان تین شعبوں میں بھارت پر حاوی ریا۔ بھارتی طیاروں کے نقصانات انٹیلیجنس ناکامی کا نتیجہ تھے۔
A resolution submitted in the US House of Representatives by Congressman Al Green praises Pakistan’s efforts to facilitate peace between the United States, Israel and Iran, as Islamabad’s role in back-channel diplomacy draws growing attention in Washington.
کسی کو شک ہے تو ہمیں پھر سے آزما لے، ہم کل بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ معرکہِ حق کے بعد پاکستان خطہ میں نیٹ سیکیورٹی سٹیبلائزر کے طور پر مستحکم ہوا ہے۔ کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، کوئی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر
President Donald Trump has cooled expectations of an imminent Islamabad signing ceremony, saying it is “too soon” for such a trip despite signs that US and Iranian negotiators are moving closer to a possible peace framework.