Pakistan and the US are exploring ways to deepen their economic partnership as Finance Minister Muhammad Aurangzeb uses World Bank and IMF meetings in Washington to pitch Pakistan as a resilient and reform-focused economy.
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
في ظل التحديات الراهنة التي يواجهها العالم الإسلامي، بات العلم والاعتماد على الذات والقوة أموراً لا غنى عنها. واليوم يسود “قانون الغاب” حيث أصبحت القوة هي الحق، لذلك فإن الاستعداد الكامل لمواجهة الأعداء ضرورة. من يجرؤ يفز، وعلى الأمم أن تنزع الخوف أولاً من قلوبها. ووفقاً لهذا النهج، طوّرت باكستان تكنولوجيتها بنفسها، وقدّمت قدراتها المحلية أمام العالم خلال الحرب الأخيرة مع الهند.
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ملک کی پہلی گوگل کروم بُک اسمبلی لائن کا افتتاح کرتے ہوئے اسے ڈیجیٹل معیشت کی سمت فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔ گوگل کی مقامی موجودگی، ایک لاکھ ڈیویلپرز کی تربیت، گیمنگ و اسٹارٹ اپ پروگرامز اور اے آئی پر مبنی عوامی خدمات کے منصوبے پاکستان میں روزگار، سپلائی چین اور برآمدی صلاحیت کو نئی سمت دیں گے۔
پاکستان نے 2007 کے بعد پہلی بار آف شور تیل و گیس تلاش کے 23 بلاکس کی نیلامی مکمل کر لی ہے۔ چار مقامی کمپنیوں کے کنسورشیم کو لائسنس دیے گئے ہیں جبکہ ترکی کی کمپنی ٹی پی اے او نے بھی شراکت داری اختیار کی ہے۔ ابتدائی سرمایہ کاری 8 کروڑ ڈالر ہوگی جو کامیاب ڈرلنگ کی صورت میں ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.