ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اِس بات کی منظوری دی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل سٹرائیک نہیں ہو گا جب تک کہ اُن ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ اُس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تہران “غیر مشروط ہتھیار نہ ڈال دے”، اور اس کے بعد ہی واشنگٹن کے نزدیک قابلِ قبول قیادت کے ساتھ ایران کو دوبارہ مضبوط بنانے کی بات ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اس کے لیے اپنا نیا نعرہ بھی پیش کیا ہے: “میک ایران گریٹ اگین”۔
Donald Trump has hardened his stance on Iran by declaring that no agreement is possible without “unconditional surrender”, while also saying the United States and its allies would help rebuild the country only after the emergence of what he called “great and acceptable” new leadership.
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کے خلاف ایرانی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اِن ریاستوں کیلئے یکجہتی و حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے ایرانی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایران کے سینئر سکیورٹی مشیر نے ٹرمپ کے مداخلت کے اشارے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی “ریڈ لائن” ہے، اور کسی بھی “مداخلت پسند ہاتھ” کو “افسوس ناک انجام” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.