پاکستان کو گزشتہ ہفتے کے دوران رونما ہونے والے بیانات و واقعات کو غیر متعلقہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بینجمن نیتن یاہو کے بیانات، سی بی ایس کی رپورٹ، بھارتی میڈیا کی تیز رفتار تشہیر، الجزیرہ کا فریم، لِنڈسے گراہم کا سخت ردعمل، اور اِسی دوران پاکستان کے اندر عسکریت پسند واقعات کی نئی لہر، یہ سب ایک ہی سیاسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام آباد کی نئی اور نمایاں سفارتی حیثیت نے اُسے بیانیہ کی جنگ کا ہدف بنا دیا ہے۔
واشنگٹن، تل ابیب، نئی دہلی اور کابل میں برسوں تک پاکستان کو ایک ایسے مسئلہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا جسے قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ اب وہی پاکستان ایک ایسے مُلک کے طور پر زیرِ بحث ہے جس کے پاس اثر و رسوخ موجود ہے۔ یہی تبدیلی اچانک پیدا ہونے والی بےچینی کی بڑی وجہ ہے۔ ایک مُلک جسے کبھی بحرانوں کی سرخیوں تک محدود کر دیا گیا تھا، اب محتاط انداز میں ہی سہی، تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک سفارتی راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سی بی ایس نے نامعلوم امریکی حکام کے حوالہ سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنی ایئر فیلڈز پر کھڑا ہونے کی اجازت دی۔ پاکستان نے اِس الزام کو مسترد کیا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ طور پر اسلام آباد کے کردار کا دفاع کیا، پاکستان کو ”عظیم“ قرار دیا جبکہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم دونوں کی تعریف کی۔
یہ تضاد اہم ہے۔ وہی واشنگٹن نظام جسے ایران کے ساتھ ایک چینل کھلا رکھنے کیلئے پاکستان کی ضرورت تھی، اب ایسی آوازیں بھی پیدا کر رہا ہے جو یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا پاکستان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ سینیٹر لِنڈسے گراہم کے ریمارکس مبہم نہیں تھے، اُنہوں نے کہا کہ وہ پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے اور سی بی ایس رپورٹ کے بعد پاکستان کے کردار پر سوال اٹھایا، یہ کہتے ہوئے کہ ثالثی کسی نتیجہ کی طرف نہیں جا رہی۔
یہ معاملہ محض ایک سینیٹر کے غصے کا نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے کردار کی تعریف کون کرے گا۔ اگر اسلام آباد ثالثی کرے تو ناقدین اِسے موقع پرستی کہتے ہیں، اگر پاکستان غیر جانب دار رہے تو اِسے دوغلا پن کہا جاتا ہے۔ اگر پاکستان تہران سے بات کرے تو ایران کی مدد کا الزام لگتا ہے، اگر اسلام آباد واشنگٹن سے بات کرے تو اِسے امریکا کی خدمت قرار دیا جاتا ہے۔ معیار مستقل مزاجی نہیں بلکہ معیار کنٹرول ہے۔
بینجمن نیتن یاہو کا زاویہ بھی اِسی سلسلے میں فِٹ بیٹھتا ہے۔ آن لائن گردش کرنے والی رپورٹس اور کلپس میں اسرائیلی وزیراعظم کو یہ الزام لگاتے دکھایا گیا کہ پاکستان آن لائن سرگرمی کے ذریعہ امریکا اسرائیل تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جنگی پیغام رسانی کے ڈرامائی ماحول کو مدِنظر رکھتے ہوئے بھی سیاسی اشارہ واضح ہے کہ پاکستان کو صرف ایک سفارتی کردار کے طور پر نہیں بلکہ ایک معلوماتی کردار کے طور پر بھی نامزد کیا جا رہا ہے۔ یہ تل ابیب اور اُس کے حامیوں کی جانب سے اسلام آباد کو فریم کرنے کے انداز میں ایک نمایاں شدت ہے۔
پھر میڈیا کی ترتیب بھی آتی ہے۔ سی بی ایس نامعلوم امریکی حکام کے حوالہ سے ایک خبر شائع کرتا ہے، بھارتی میڈیا اُسے فوراً اِس ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ پاکستان غیر جانب دار نہیں، الجزیرہ اِس تنازع کو ایک سوال کے فریم میں دیکھتا ہے کہ کیا اسلام آباد اب بھی سفارت کاری کو بچا سکتا ہے، ریڈیو فری یورپ پوچھتا ہے کہ پاکستان ثالث ہے یا سٹریٹیجک موقع پرست۔ نتیجہ ایک زنجیر کی صورت میں سامنے آتا ہے، یعنی ایک الزام فریم بن جاتا ہے، فریم بحث بن جاتا ہے اور بحث پاکستان کی ساکھ پر سوالیہ نشان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
جدید دور میں بیانیہ کا دباؤ اِسی طرح کام کرتا ہے۔ اِس کیلئے ہمیشہ کسی باضابطہ سازش کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف وقت، مفادات اور تکرار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دعویٰ سامنے آتا ہے، فرینڈلی ایکو سسٹمز اسے بڑھاتے ہیں، حریف ریاستیں اُسے ہتھیار بناتی ہیں، اندرونی بدگمان حلقے اُسے دوبارہ چلاتے ہیں، اور یوں کچھ ہی دیر میں اصل الزام سے زیادہ اہم وہ فضاء ہو جاتی ہے جو اُس الزام سے پیدا کی گئی ہوتی ہے۔
پاکستان کے اندر تشدد کا وقت بھی ایک نئی پرت جوڑتا ہے۔ بنوں کا حملہ، سرائے نورنگ کا دھماکا، اٹک میں ناکام خودکش حملہ، اور مولانا ادریس کی شہادت الگ الگ سیکیورٹی واقعات نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر نفسیاتی مہم کا خام مال بن جاتے ہیں۔ مقصد صرف نقصان پہنچانا نہیں بلکہ مقصد ایک کیفیت پیدا کرنا ہے کہ ریاست ناکام ہو رہی ہے، پاکستان ٹوٹ رہا ہے، اور بیرونِ مُلک ہر سفارتی کامیابی گھر کے اندر خونریزی سے ختم ہو جاتی ہے۔
یہ اُن ریاستوں کے خلاف استعمال ہونے والی سب سے پُرانی چال ہے جو دباؤ میں ہوں۔ آپ صرف اُن کی سرزمین پر حملہ نہیں کرتے بلکہ اُن کے اعتماد پر حملہ کرتے ہیں۔ آپ شہریوں کو یہ محسوس کراتے ہیں کہ کچھ بھی کام نہیں کر رہا۔ آپ اتحادیوں کو اُن کے فیصلے پر شک میں ڈالتے ہیں، دشمنوں کو کمزوری کا تاثر دیتے ہیں اور غم کو ناکامی کے ثبوت میں بدل دیتے ہیں۔
غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کے معاملہ پر چلنے والی مہم بھی اِسی منطق کے تحت آگے بڑھی۔ پاکستان کو اپنی سرحدیں منظم کرنے اور امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا پورا حق حاصل ہے، خاص طور پر برسوں تک علاقائی عدم استحکام کا بوجھ اٹھانے کے بعد، مگر آن لائن ردعمل کو بہت جلد بین الاقوامی رنگ دے دیا گیا۔ بھارتی اکاؤنٹس، پاکستان مخالف افغان اکاؤنٹس، اور ریاست سے مخاصمت رکھنے والی مقامی آوازوں نے اِس معاملہ کو یوں پیش کیا جیسے پاکستان نے اپنی خودمختاری پر عمل کر کے کوئی ناقابلِ معافی اخلاقی جرم کر دیا ہو۔
اِس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کو تنقید سے بالاتر ہونا چاہیے، کوئی سنجیدہ ریاست ایسا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ انسدادِ دہشتگردی پالیسی پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، پناہ گزین پالیسی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، سفارتکاری پر بحث ہو سکتی ہے، مگر تنقید اور منظم طور پر ساکھ ختم کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ پہلی چیز احتساب کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ دوسری تباہی چاہتی ہے۔
پاکستان کے مخالفین کو یہ بات پریشان نہیں کر رہی کہ اسلام آباد اچانک بہت طاقتور ہو گیا ہے۔ ایسا نہیں ہوا کیونکہ پاکستان اب بھی معاشی کمزوری، اندرونی سیکیورٹی خطرات، سیاسی تقسیم اور ادارہ جاتی عدم اعتماد کا سامنا کر رہا ہے۔ اُنہیں اصل پریشانی یہ ہے کہ پاکستان نے پرانے سکرپٹ میں قید رہنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان نے معاشی دباؤ برداشت کیا، سفارتی تنہائی کی کوششوں کو جذب کیا، علاقائی سفارت کاری میں دوبارہ داخل ہوا، اور دنیا کے حساس ترین بحرانوں میں سے ایک میں خود کو ایک کردار کے طور پر شامل کیا۔
اِسی لیے زبان سخت ہو گئی ہے۔ پاکستان پر حملہ اِس لیے نہیں ہو رہا کہ وہ غیر متعلقہ ہے بلکہ حملے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان دوبارہ متعلقہ ہو گیا ہے۔ اہمیت جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ تخریب کاری کو بھی کھینچتی ہے۔ جتنا زیادہ اسلام آباد کو متحارب طاقتوں کے درمیان ایک چینل کے طور پر دیکھا جائے گا، اتنا ہی زیادہ وہ حلقے جو مستقل تصادم میں دلچسپی رکھتے ہیں، اِس چینل کو زہر آلود کرنے کی کوشش کریں گے۔
ریاست کا ردعمل منظم ہونا چاہیے۔ پاکستان کو ہر الزام کا جواب شور سے نہیں دینا چاہیے۔ الزامات کا جواب ثبوت سے، سفارت کاری کا جواب صبر سے، دہشتگردی کا جواب درست کارروائی سے، اور پروپیگنڈا کا جواب وضاحت سے دینا چاہیے۔ سب سے بڑی غلطی یہ ہو گی کہ بیانیہ کی جنگ کا مقابلہ جذباتی بدانتظامی سے کیا جائے۔ بہترین جواب حقائق کے ساتھ مضبوط سکون ہے۔
گھر کے اندر پاکستانیوں کو محتاط رہنا چاہیے کہ وہ غیر ملکی یا مخالف بیانیہ کے مفت ذرائع نہ بن جائیں۔ ہر سانحے پر غم ہونا چاہیے، ہر ناکامی کا جائزہ لیا جانا چاہیے، ہر سرکاری دعویٰ کو پرکھا جانا چاہیے۔ مگر جب بھارتی اکاؤنٹس، پاکستان مخالف نیٹ ورکس اور بیرونی مفادات سے جڑی آوازیں ایک ہی وقت میں ایک ہی فریم کو آگے بڑھا رہی ہوں تو شہریوں کو کم از کم یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ اِس گھبراہٹ سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے۔
سبق واضح ہے۔ پاکستان ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے جہاں اُس کی بڑھتی سفارتی اہمیت، چاہے نازک ہی کیوں نہ ہو، میڈیا و لابنگ اور سیکیورٹی دباؤ و سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعہ چیلنج کی جائے گی۔ مُلک کو اب نظر انداز نہیں کیا جا رہا، یہ پیش رفت ہے، مگر اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ میدانِ جنگ پھیل چکا ہے۔
پاکستان کے مخالفین چاہتے ہیں کہ ایک ہی کہانی غالب آئے کہ یہ ایک ناکام ریاست ہے جو ثالث بننے کا ڈرامہ کر رہی ہے۔ پاکستان کا جواب ایک دوسری کہانی ہونا چاہیے کہ یہ ایک زخمی مگر ثابت قدم ریاست ہے جو اپنی جغرافیائی حیثیت، عسکری ساکھ اور سفارتی رسائی کو اثر و رسوخ میں بدلنا سیکھ رہی ہے۔ لڑائی اب صرف سرحدوں یا فضائی حدود کی نہیں رہی بلکہ یہ تشریح کی لڑائی ہے۔
اور اِس لڑائی کا پہلا اصول یہی ہے کہ اِس لمحہ کو غلط نہ سمجھا جائے۔ یہ واقعات الگ الگ نہیں ہیں۔ یہ پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی جدوجہد کا حصہ ہیں، اِس سے پہلے کہ پاکستان خود اپنا ایک امیج طے کرے۔




