افغانستان کے خلاف جنگ ہمارا انتخاب نہیں، ضرورت ہے۔ مقصد رجیم چینج نہیں، دہشتگردی کو روکنا ہے۔ پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کے پاس پراکسی وار کے علاوہ آپشن نہیں۔ افواجِ پاکستان ہر دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ افغان حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری ختم کرنا ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا آپریشن کے بعد ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔
امریکا اور صیہونی رجیم کے خلاف ایران کیلئے بھرپور حمایت اور یکجہتی کے اظہار پر پاکستانی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایران اپنی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ثابت قدمی و استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ 28 مارچ سے قبل ایران جنگ ختم کر سکتے ہیں، ایران و امریکا جنگ سے پہلے معاہدہ طے پا چکا تھا، پاکستان کے ہاتھوں شکست نے خطہ میں بھارتی اثر و رسوخ ختم کر دیا، افغان حکومت اپنی خارجہ پالیسی سے افغانستان کے سب سے بڑے محسن پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔