پاکستان کی جانب سے آج صبح ایران کے اندر دہشتگرد ٹھکانوں پر مؤثر حملے کیے گئے ہیں، پاکستان کی خودمختاری اور کسی بھی مہم جوئی کے خلاف پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہمارا عزم غیرمتزلزل ہے۔
پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی، آپریشن مرگ بر سرمچار کے تحت ایران کے صوبہ سیستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی۔ مصدقہ انٹیلیجنس معلومات پر کی گئی کارروائی قومی سلامتی کو خطرات سے بچانے اور دفاع کے غیرمتزلزل عزم کا مظہر ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ
پاکستانی سرزمین پر ایرانی حملہ ناقابلِ قبول، پاکستان غیر قانونی اقدام کا جواب دینے کا مکمل حق رکھتا ہے، نتائج کی ذمہ داری ایران پر عائد ہو گی، ایرانی سفیر کو پاکستان آنے سے روک دیا، پاکستانی سفیر کو بھی ایران سے واپس بلا لیا۔
ایران کی جانب سے پاکستانی حدود میں حملے پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کا شدید احتجاج، پاکستان کی خودمختاری پر ناقابلِ قبول حملہ قرار دیتے ہوئے ایران کو سنگین نتائج کا عندیہ دے دیا.
پتہ لگنا چاہیے کہ مجھے 93 اور 99 میں کیوں نکالا گیا، ہمیں نکال کر مُلک اناڑی کے حوالہ کیا گیا، معاشی بدنظمی 2019 میں شروع ہوئی اور 2022 تک ہر چیز کا بھٹا بیٹھ گیا، ملک کے ساتھ یہ سلوک کرنے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔