پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کو سعودی عرب پر حملوں سے گریز کرنے کی تنبیہ کر دی جس میں پاک سعودی باہمی دفاعی معاہدے کا حوالہ بھی دیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کے ساتھ فون کال پر مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
ایران نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے پر رضامند تھا، پاکستان نے کہا کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کا پُرامن استعمال سب کا حق ہے، پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت کی، ایران خلیجی ممالک پر حملے نہ کرتا تو ہم اُن ممالک کو ساتھ ملا کر مؤثر کردار ادا کر سکتے تھے۔
پاکستان کا ایران پر حملوں کی شدید مذمت: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا رابطہ۔ کشیدگی فوری روکنے اور سفارت کاری کی فوری بحالی کے ذریعے پُرامن، مذاکراتی حل پر زور۔
دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے قومی عزم کو لرزہ بر اندام نہیں کر سکتیں، ہر شکل اور ہر قسم کے دہشتگرد حملوں کی قطعی طور پر مذمت کرتے ہیں۔ دہشتگردی ہمارے دور کے بڑے عالمی چیلنجز میں سے ایک ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ملک کی پہلی گوگل کروم بُک اسمبلی لائن کا افتتاح کرتے ہوئے اسے ڈیجیٹل معیشت کی سمت فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔ گوگل کی مقامی موجودگی، ایک لاکھ ڈیویلپرز کی تربیت، گیمنگ و اسٹارٹ اپ پروگرامز اور اے آئی پر مبنی عوامی خدمات کے منصوبے پاکستان میں روزگار، سپلائی چین اور برآمدی صلاحیت کو نئی سمت دیں گے۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔