نخست وزیر شهباز شریف با رئیسجمهور ایران تماس برقرار کرد، تجاوزگری اسرائیل را به شدت محکوم نمود و حمایت کامل خود را از حاکمیت و دفاع ایران اعلام کرد. وی با بهرسمیت شناختن حق دفاع ایران بر اساس منشور سازمان ملل متحد، بر ضرورت واکنش مشترک در برابر ظلم و ستمهای اسرائیل تأکید نمود۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت اور ایرانی خودمختاری و دفاع کی مکمل حمایت کا اظہار، اقوامِ متحدہ چارٹر کے تحت ایران کے حقِ دفاع کو تسلیم کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کے خلاف مشترکہ ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد جاری کیے گئے میزائل رینج نقشہ میں پورے کشمیر کو پاکستانی حدود کا حصہ بنا کر دکھا دیا گیا۔ اسرائیل کے ساتھ بھارت کے قریبی تعلقات کے باوجود اسرائیلی افواج نے بظاہر کشمیر پر بھارتی دعویٰ تسلیم نہیں کیا۔
India, despite being one of Israel’s most reliable arms clients and diplomatic partners, has received no symbolic validation of its Kashmir position from the Israeli Defence Forces.
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے بلاجواز اور اسکی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے اقدامات خطے کے امن، استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں جنہیں کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔
Pakistan's textile exports reached $1.833 billion in July, the highest monthly figure on record, up 43 percent from June and 9.11 percent on the same month last year. Total exports rose 10 percent to $2.96 billion, with textiles the clear driver.
Turkey, Saudi Arabia and Pakistan are expected to sign a joint defence agreement in Saudi Arabia on Friday, according to Reuters, citing two regional sources. Erdogan arrives in Riyadh to meet Mohammed bin Salman and Shehbaz Sharif, with Field Marshal Asim Munir already in the Kingdom.