نواز شریف کو نکال کر جس کو لایا گیا اس نے گالیاں دینے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا، اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، پاکستان کسی ایسے شخص کے حوالے نہیں کر سکتے جو معاشرے اور کلچر کو تباہ کر دے۔
سینیٹ میں آرمی ایکٹ 1952 میں ترامیم کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا، گیارہ صفحات پر مشتمل بل وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے پیش کیا جس میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں کیلئے فوج کو بدنام کرنے یا نفرت پھیلانے پر سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
چند ماہ سے موجودہ عدلیہ کا جو رویہ سامنے آ رہا ہے اس سے دراڑیں واضح نظر آ رہی ہیں، ایک شخص کو بار بار ضمانتیں دی جا رہی ہیں اور ایسے ماحول میں اپنے لیڈر کو ان کے حوالہ کرنے کا رسک نہیں لیا جا سکتا کیونکہ یہ ٹولہ جاتے جاتے ضرور نواز شریف کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔
پاکستان کئی دہائیوں سے مسلسل دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس جنگ میں لاکھوں جانیں گنوا چکا ہے جو خطہ میں ناکام امریکی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.