PARIS (The Thursday Times) — A recent IPSOS report titled "Pakistan General Elections 2024: Perceptions on Transparency & Rigging" has cast a spotlight on the varying degrees of trust in the electoral processes across different regions of Pakistan, with a particular focus on the perceptions held by residents of Khyber Pakhtunkhwa (KPK).
خیبرپختونخوا کے عوام ایک جھوٹے شخص کے جھانسے میں آ گئے تھے، وہ شخص نیا پاکستان کا نعرہ لگا کر مکر و فریب کی سیاست کر رہا تھا، اس نے پاکستان کو تباہ و برباد کر دیا، امید ہے خیبرپختونخوا کے عوام دوبارہ تبدیلی کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔
خیبرپختونخوا کے عوام خود پر رحم کریں اور اگلے پانچ برس ان کیلئے تباہ نہ کریں جنہوں نے دس برس تباہ کر دیئے، ملک کو تباہ کرنے والے سزا بھگت رہے ہیں، اعمال قبر تک پیچھا کرتے ہیں، مریم نواز
خیبرپختونخوا کے عوام ایک جھوٹے شخص کے جھانسے میں آ گئے جس نے پورے ملک کو تباہ کر دیا، پاکستانی کو بگاڑنے والے بگاڑ کر چلے گئے، اب ہمیں پاکستان کو دوبارہ تعمیر کرنے کیلئے بڑی محنت کرنا پڑے گی، یہ جان جوکھوں کا کام ہو گا، نواز شریف
عمران خان مستقبل میں بھی ملکی سیاست میں نظر نہیں آ رہے، نو مئی کے مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، انتخابات بروقت ہوں گے، ادارہ غلطیوں کا ازالہ کر رہا ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔