سابق وزیراعظم عمران خان کی فرنٹ پرسن فرح گوگی کی میگا کرپشن کے متعلق ہوشربا انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، فرح گوگی کے ظاہری اور غیر ظاہری اثاثوں میں 2017 سے 2020 تک 4 ہزار 520 ملین روپے کا حیرت انگیز اضافہ ہوا، ظاہری اثاثوں میں 420 فیصد جبکہ غیر ظاہری اثاثوں میں 15 ہزار 300 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہوا۔
بشریٰ بی بی نے ہی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کے نام سے ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم بنانے کیلئے راغب کیا جس کے تحت اسلام آباد سے باہر مبینہ طور پر روحانیت اور اسلامی تعلیمات سے وابستہ ایک یونیورسٹی چلائی جا رہی ہے جبکہ یہی ٹرسٹ عمران خان اور بشریٰ کے خلاف کرپشن کے الزامات کا حصہ ہے۔
ملک ریاض سے حاصل کی گئی زمین پر القادر یونیورسٹی بنائی کیونکہ اس یونیورسٹی کے ذریعہ وہ پاکستان کو مستقبل کیلئے سیرت النبی پر عمل کرنے والی صادق و امین قیادت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
عمران خان کے دور میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 190 ملین پاونڈز رہکور کر کے پاکستان کو دیئے تو عمران خان نے بطور وزیراعظم وہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے اسی بزنس ٹائیکون کی جیب میں ڈال دی۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔