پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات 2024 کیلئے انتخابی منشور پیش کر دیا جس کے مطابق نیب کا ادارہ ختم کیا جائے گا، مالی سال 2025 تک مہنگائی میں 10 فیصد کمی لائی جائے گی جبکہ چار سالوں میں مہنگائی کو 4 سے 6 فیصد تک لایا جائے گا، منشور میں فی کس آمدنی کو پانچ برس میں 2 ہزار ڈالرز کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
اگر کسی نے حقیقی معنوں میں جنوبی پنجاب کی خدمت کی ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے، دیگر جماعتیں صرف سیاست چمکانے کیلئے جنوبی پنجاب کو استعمال کرتی ہیں، شیر کو جتنے زیادہ ووٹ ملیں گے پاکستان اتنی تیزی سے ترقی کرے گا۔
پاکستان پر جو تبدیلی مسلط کی گئی تھی اس نے ملک و قوم کا بُرا حال کر دیا، اللّٰه نے موقع دیا تو ہم اچھا وقت واپس لائیں گے اور مہنگائی کا خاتمہ ہو گا، لوگوں کو باعزت روزگار فراہم کریں گے اور پاکستان ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔
نواز شریف کا منشور انکی خدمات اور منصوبے ہیں، مسلم لیگ (ن) صرف اپنی کارکردگی کی بناء پر ووٹ مانگ رہی ہے، مجھے 2018 میں نااہل کیا گیا کیونکہ میں اپنے والد کے ساتھ کھڑی تھی، میں نے نواز شریف کا ساتھ دینا تھا چاہے میری جان چلی جاتی۔
نواز شریف میڈ اِن پاکستان ہے، نواز شریف کو کسی نے باہر سے فتنہ بنا کر لانچ نہیں کیا تھا، نواز شریف عوام کا لاڈلا اور اِس دھرتی کا سچا بیٹا ہے، نواز شریف کو بار بار نکالا گیا لیکن عوام ہر بار ووٹ کی طاقت سے نواز شریف کو واپس لائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔