مریم نواز، صحافی حامد میر، ابصار عالم اور صحافی اسد طور ان لوگوں میں شامل ہیں جو عمران خان اور جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے قاتلانہ سازشوں میں محفوظ رہے۔
پاکستان کی بری حالت کا ذمہ دار عمران خان اور اسکے ساتھ پورا گینگ ہے جس نے پاکستان کو نوچ نوچ کر کھایا ہے۔ اس گینگ کا سرغنہ عمران خان ہے، اس گینگ میں پاکستان کا ہر کرپٹ ترین شخص موجود ہے چاہے وہ ثاقب نثار ہو جنرل فیض ہو جسٹس مظاہر نقوی ہو وہ کوئی بھی کرپٹ ترین شخص ہو وہ اس گینگ کا حصہ نکلے گا۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شاہی محل میں ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف بھی شریک تھییں۔
جب الیکشن کا کیس چل رہا تھا تو سننے کو ملا کہ چیف جسٹس جذباتی ہو گئے۔ آپ کو اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا جب ایک منتخب وزیراعظم کو دفتر سے نکالا گیا، اقامے پر سزا دی، بیٹی کو باپ کا ساتھ دینے پر موت کی چکیوں میں ڈالا، رانا ثناء اللّٰہ پر منشیات اسمگلنگ کیس ڈالا گیا، طلال چودھری پر ظلم و جبر کیا گیا۔
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔