9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کی منصوبہ بندی زمان پارک میں ہوئی اور اس سب کے پیچھے ملک دشمن قوتوں کا ایجنٹ اور توشہ خانہ چور عمران خان تھا۔ پاکستان کے بدترین دشمن بھی پاکستان پر ایسے حملے نہیں کر سکے جو عمران خان نے 9 مئی کو کروائے، جو پاکستان کے بدترین دشمن نہ کر سکے وہ عمران خان نے کر دکھایا۔
کسی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے مگر عدلیہ کی موجودہ حالت سب کے سامنے ہے جہاں توشہ خانہ اور دیگر کیسز میں بھی سٹے دے دیا گیا، ریاست مظلوم کی حیثیت سے انصاف کی منتظر ہے مگر چیف جسٹس آئین کی بجائے لاڈلے اور ساس کے قانون کے تحت ایک جماعت کیلئے سہولت کاری کر رہے ہیں۔
عمران خان تم نواز شریف اور ہر اس شخص سے معافی مانگو جس پر تم نے جھوٹے الزام لگائے اور انھیں تکلیف پہنچائی۔ یہ گرہیں جو تمھیں دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں تم نے خود لگائیں تھیں۔ کبھی تکبر اور رعونت کا پہاڑ ہوا کرتے تھے، آج عبرت کا نشان بنے بیٹھے ہو۔
سپریم کورٹ کی جس عمارت سے انصاف ملنا تھا، وہاں بیٹھ کر کچھ سہولت کار انصاف کا قتل کر رہے ہیں۔ تمہارے قلم کو طاقت ملک کے منتخب نمائندوں نے دی ہے۔ کسی کو آئین کو ازسرنوتحریر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔