سیاسی آلودگی مُلک کو تباہ و برباد کر دیتی ہے، روز جلاؤ گھیراؤ اور احتجاج کی باتیں سننے کو ملتی ہیں، خیبرپختونخوا سے سرکاری لوگوں کو سرکاری گاڑیوں میں لا کر وفاق پر حملہ کیا جاتا ہے کیونکہ ملکی معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں اور ان کی سیاست دفن ہو رہی ہے۔
کہتے تھے نواز شریف کی گردن میں رسا ڈال کر کھینچ کر وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکالیں گے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، دھرنا سیاست نے پاکستان کو اس نہج پر پہنچایا، ریاست کے ستونوں نے بھی اچھا سلوک نہیں کیا، ایسی کونسی جماعت ہے جس نے پاکستان میں مسلم لیگ (ن) جتنا کام کیا ہو؟
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے "ہونہار اسکالرشپ پروگرام" کا اعلان کردیا ہے جس سے مستحق اور لائق طلباء کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم ہوسکے گی۔ اس پروگرام کے تحت 30,000 سالانہ اسکالرشپ 68 منتخب شعبوں میں انڈرگریجویٹ ڈگری پروگراموں کے لیے دی جائیں گے جو جدید جاب مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہوں گے۔
مخالفین کے پاس گالم گلوچ کے سوا کچھ نہیں، ان کی توجہ دوسروں کی عزتیں اچھالنے پر ہے، دوسرے صوبوں میں جلسہ اور جلاؤ گھیراؤ آسان مگر اپنا کام کرنا مشکل ہے، اگر پنجاب میں آ کر کوئی قانون توڑے گا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
عمران خان کی رہائی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے جمعہ کو پورے ملک میں باہر نکلیں گے، کسی آئینی ترمیم کو نہیں مانیں گے، بلاول بھٹو کے اندر غیرت نہیں، آئینی ترمیم میں حصہ لینے والی جماعتوں کو عوام جواب دیں گے، میں کسی کا غلام نہیں، معافیاں بھول جاؤ۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔