کوئی صوبہ کسی دوسرے ملک سے براہِ راست مذاکرات نہیں کر سکتا، علی امین گنڈا پور کا افغانستان سے براہِ راست مذاکرات کا بیان وفاق پر حملہ ہے، پی ٹی آئی کے 4 سالہ دورِ حکومت میں اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا، مجھ پر آرٹیکل 6 لگایا گیا۔
علی امین گنڈا پور پنجاب آئیں ہم انہیں زلفوں سے باندھ کر الٹا لٹکائیں گے، مریم نواز اور خواتین صحافیوں کے بارے میں استعمال کی گئی زبان قابلِ برداشت نہیں ہے، جنہوں نے آج اپنی اولاد کو نہیں مانا وہ باپ کو کیا مانیں گے؟ پی ٹی آئی والے اندر خانے پاؤں پکڑ رہے ہیں۔
پنجاب پر لشکر کشی کی دھمکیاں دینے والوں کا ہم اٹک پل پر انتظار کریں گے، پرسوں پی ٹی آئی نے پاکستان کا وجود چیلنج کیا، کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پی ٹی آئی والے ضمیر فروش اور رنگ باز ہیں، عمران خان ڈگی میں بیٹھ کر جنرل باجوہ سے ملنے جاتا تھا۔
نواز شریف کے ویژن سے ہم مہنگائی میں کمی لائے ہیں، آٹا اور سبزیوں کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، مہنگائی 35 فیصد سے کم ہو کر 9 اعشاریہ 6 فیصد تک آئی ہے، سرکاری سکولز کے بچوں کیلئے مفت دودھ فراہم کیا جائے گا، میں صرف لاہور کا نہیں پورے پنجاب کا سوچتی ہوں۔وزیرِ اعلٰی پنجاب، مریم نواز
مسلم لیگ (ن) واحد جماعت ہے جو مشکل ترین حالات میں عوام کو ریلیف دینا جانتی ہے، پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیز نے ملک کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا، مسلم لیگ (ن) عوام کو مہنگائی و بجلی کے بھاری بِلز سے نجات دلائے گی اور معیشت کی مضبوطی کیلئے جو بھی کرنا پڑا کرے گی۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔