سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ آئین کو مدنظر رکھے، ہم مفروضوں پر نہیں چل سکتے۔ الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے، جو نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے اور نہ ہی کسی اور کے۔ مداخلت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب الیکشن کمیشن کا کوئی اقدام غیر آئینی ثابت ہو۔ الیکشن کمیشن کی تقرری حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔
تحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں ہے، سرٹیفکیٹ دوسری جماعت کا جمع کرایا اور کہا کہ منسلک تحریکِ انصاف سے ہوں۔ اسوقت کے صدر عارف علوی نے اختیار ہونے کے باوجود الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔
جب آمر آئے تو سب ساتھ مل جاتے ہیں، وزیر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں اور جب جمہوریت آئے تو چھریاں نکال کر آ جاتے ہیں، اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں، آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے۔
الیکشن کمیشن نے منت کی تھی کہ انتخابات کرا لیں، کیا تحریکِ انصاف کو ہم نے کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرائیں؟ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا اپنی جماعت سے الیکشن نہیں لڑے، اس جماعت میں شامل ہو کر سیاسی خودکشی کیوں کی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
جس جماعت نے الیکشن میں حصہ ہی نہیں لیا وہ سیاسی جماعت کی تعریف میں کیسے آ سکتی ہے؟ مفروضوں کی بنیاد پر یہاں آگے نہیں بڑھ سکتے، ایک کاغذ کے ٹکڑے پر آپ پارٹی کہہ رہے ہیں مگر آپ نے تو الیکشن ہی نہیں لڑا۔ جس سیاسی جماعت سے انتخابی نشان لے لیا گیا، کیا اس جماعت کے امیدواروں پر پابندی عائد کی گئی تھی کہ وہ کسی دوسری جماعت سے الیکشن نہیں لڑ سکتے تھے؟
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.
سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
Pakistan has moved to shut down the impression of informal peace talks with the Afghan Taliban, insisting that there will be no dialogue without concrete and verifiable action against cross-border militancy.