ACROSS TT

News

ایران نے پاکستانی ثالثی کے ذریعہ ایک نئی 14 نکاتی تجویز امریکا کے سامنے پیش کر دی۔ ایرانی نیوز ایجنسی

ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کیلئے پاکستانی ثالثی کے ذریعہ نئی 14 نکاتی تجویز پیش کر دی۔ جنگ بندی مذاکرات اور اعتماد سازی کیلئے امریکی اقدامات پر مرکوز ترمیمی تجویز پاکستانی ثالثی کے ذریعہ امریکیوں کے سامنے پیش کی جائے گی۔

Pakistan’s military rebukes Indian army chief over “Geography or History” threat

On the first anniversary of Marka-e-Haq, Pakistan's military has dismissed the Indian Army Chief's "geography or history" warning as the rhetoric of a state suffering "a bankruptcy of cognitive capacities", and has reminded Delhi that any attempt to target a nuclear neighbour would be neither geographically confined nor politically survivable.

US Congressman Jack Bergman hails Pakistan’s “Statesmanship” in US-Iran peace talks

Senior US Congressman Jack Bergman, Co-Chair of the Congressional Pakistan Caucus, has formally thanked Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir for Pakistan's role in the ongoing US-Iran peace negotiations, describing Islamabad's contribution as "indispensable" and a demonstration of "true statesmanship" in a letter dated 15 May and sent on House of Representatives letterhead.

Pakistan, Türkiye and Azerbaijan eye new Eurasian order

The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.

پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خواجہ آصف

پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
NewsroomJudicialتحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، فیصلے کی...

تحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں، چیف جسٹس

تحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں ہے، سرٹیفکیٹ دوسری جماعت کا جمع کرایا اور کہا کہ منسلک تحریکِ انصاف سے ہوں۔ اسوقت کے صدر عارف علوی نے اختیار ہونے کے باوجود الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

spot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سپریم کورٹ آف پاکستان میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کو براہِ راست نشر کیا گیا، عدالتِ عظمٰی میں کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے کی۔

سماعت کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل کا آغاز کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تحریکِ انصاف کی مخصوص نشستوں کی لسٹ طلب کی تھی وہ نہیں ملی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ سارا ریکارڈ جمع کرا دیا ہے، کیس سے متعلق حتمی پیپر بک جمع کرا دی ہے، الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ مجھے 81 آزاد امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی مہیا کریں، میں تحریکِ انصاف کے فارم 66 بھی عدالت کو مہیا کر دوں گا۔

سکندر بشیر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شامل 81 آزاد ارکان کے کاغذاتِ نامزدگی بھی منگوائے تھے، تمام ریکارڈ ضلعی سطح پر ہوتا ہے، مکمل ریکارڈ نہیں ملا، اس کی سمری موجود ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ تحریکِ انصاف کی ترجیحی فہرست بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ حامد رضا نے سنی اتحاد کونسل سے تعلق اور تحریکِ انصاف سے اتحاد ظاہر کیا، حامد رضا نے شٹل کاک کا انتخابی نشان مانگا تھا جو کسی اور کو الاٹ ہو چکا تھا، حامد رضا بطور آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد رضا کے خط میں کہیں نہیں لکھا کہ وہ اپنا پارٹی سرٹیفکیٹ واپس لینا چاہتے ہیں، حامد رضا نے تو کہا بلے کا نشان دیں، اگر نہ ملے تو شٹل کاک دیا جائے، کیا یہ کہنے سے امیدوار آزاد ہو جاتا ہے؟ تحریکِ انصاف نظریاتی کا بھی ٹکٹ جمع کرایا گیا تھا؟
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریکِ انصاف نظریاتی کا ٹکٹ نہیں جمع کرایا گیا تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ دستاویزات کے مطابق بظاہر حامد رضا کے کاغذاتِ نامزدگی میں تضاد ہے، ریٹرننگ افسر کو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے، کیا ریٹرننگ افسر کو ایسے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دینے چاہئیں؟ سرٹیفکیٹ دوسری جماعت کا جمع کرایا اور کہا کہ منسلک تحریکِ انصاف سے ہوں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر تضاد تھا تو جو فارم اے جمع ہوا تھا الیکشن کمیشن نے اس کو کیوں نہ دیکھا؟

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایک انسان شادی کرنا چاہے تو اس کی اپنی چاہت ہے مگر شادی کے لیے لڑکی کا راضی ہونا بھی ضروری ہے، زبردستی شادی تو نہیں کی جا سکتی، ہو سکتا ہے ایک جماعت حامد رضا کو کہتی ہو کہ آپ ہمارے امیدوار بنیں، تضاد الیکشن کمیشن نے نہیں حامد رضا نے خود بنایا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو آئینی ادارہ تسلیم کرتے ہیں، محض انتخابات کا انعقاد کافی نہیں، جب ہم جمہوریت یا انتخابات کی بات کرتے ہیں تو عوام کی منشا کی بات ہوتی ہے، اگر انتخابی عمل پر سوالات اٹھ جائیں تو ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، الیکشن کمیشن یہ نہیں کہہ سکتا ہے فلاں وکیل یا امیدوار نے غلطی کی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ تحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، بلے کا نشان الیکشن کمیشن نے کسی کو بھی الاٹ نہیں کیا، فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں ہے، بلے کے نشان اور پارٹی امیدوار کو نتھی کیوں کیا جا رہا ہے؟ تحریکِ انصاف کا امیدوار کیوں کوئی اور جماعت جوائن کرے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکشن 240 کے مطابق صدر سے رجوع کیا جاتا ہے، صدر کی مرضی ہے کب جواب دیں نہ دیں یا کوئی اور بات کر دیں، صدر کہتے ہیں الیکشن کی تاریخ دینا ان کی ذمہ داری ہے لیکن تاریخ نہیں دیتے، اس وقت کے صدر نے آج تک نہیں بتایا کہ الیکشن کی تاریخ کیوں نہیں دی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جب امیدواروں کا تضاد سامنے آیا تو نگران حکومت تھی، نگران حکومت بھی الیکشن کمیشن کی طرح غیر جانبدار اور آزاد ہوتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی نشان بعد کی بات ہے، امیدوار انتخابات میں حصہ لیتا ہے پارٹی نہیں لیتی، امیدوار صرف پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرتا ہے، امیدوار کا حق ہے کہ اسے انتخابات کیلئے نشان ملے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کروائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں۔

وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے 5 رکنی بینچ کو مطمئن کیا اور میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسا نہ کہیں کہ 5 رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہو گیا۔

جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ 81 امیدواروں میں سے 6 نے ڈہکلیریشن اور پارٹی سرٹیفکیٹ دیا، کیا الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کےان 6 امیدواروں کے حساب سے مخصوص نشستیں دیں؟ پارٹی سرٹیفکیٹ اور ڈیکلیریشن دونوں تھے تو 6 امیدواروں کو آزاد کیسے قرار دیا گیا۔

جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم ایک اپیل سن رہے ہیں، ہمارے سامنے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا معاملہ نہیں، اس کے باوجود ہمارے سامنے 90 فیصد دلائل انتخابی نشان پر ہو رپے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ پشاور ہائیکورٹ کے 5 ججز ہمارے فیصلے کو برقرار رکھ چکے ہیں۔
جسٹس منصور علی نے کہا کہ ہم پشاور ہائیکورٹ کے پانچ ججز کے فیصلے کے پابند نہیں، ہم نے جو اصل مسئلہ ہے اسے دیکھنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کو ڈس فرنچائز کیسے کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہو گا تو تحریکِ انصاف جماعت نہیں ہو گی؟ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے اور اس میٹنگ کا ریکارڈ دکھائیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں ریکارڈ دیکھ کر بتاؤں گا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بھی بتائیں کہ الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے کسی کو آزاد ڈیکلئیر کرنے کا؟ وابستگی کا معاہدہ امیدوار اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے، آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں، الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلیئر کر دیا؟

جسٹس منصور علی نے کہا کہ اس کا جواب یہی ہے کہ آپ نے بس انتخابی نشان نہ ہونے پر اس جماعت کو الیکشن سے باہر رکھا؟ بس ہمیں یہ بتا دیں الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر یہ سوچا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہوا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے میجر پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، اب انتخابی نشان کا فیصلہ دینے والا بینچ آپ کو خود بتا رہا ہے کہ آپ کی تشریح غلط تھی۔

وکیل الیکشن کمیشن سکندر بشیر نے کہا کہ یہ صرف آبزرویشن ہیں، ابھی اس متعلق کوئی فیصلہ نہیں آیا، انتخابی نشان والے فیصلے کیخلاف نظرِ ثانی زیرِ التواء ہے۔

جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم ایک اپیل سن رہے ہیں، ہمارے سامنے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا معاملہ نہیں، اس کے باوجود ہمارے سامنے 90 فیصد دلائل انتخابی نشان پر ہو رہے ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.